خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 760 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 760

خطبات طاہر جلد ۶ 760 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء چنانچہ امریکہ ہی میں ایک ایسا دور تھا جبکہ امریکہ کی جماعت پر نیکی کے نام پر قبضہ کیا جانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔بعض لوگ ایسے تھے جنہوں نے ایک دم جماعت کے کاموں میں آگے آنا شروع کر دیا اور ان کا ایک گروہ تھا جن کا آپس میں تعلق تھا اور وہ ایک دوسرے کو بڑھاتے تھے اور جب میں نے تحقیق کی تو اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ بعض ان کے ایجنٹ جماعتوں میں پھرتے تھے اور ان کی تعریفیں کرتے تھے۔کہتے تھے فلاں شخص بہت نیک ہے اور بہت اعلیٰ خدمات کرنے والا ہے کیوں اس کو آگے نہیں لایا جارہا ؟ کہیں یہ وجہ تو نہیں کہ پاکستانی لیڈرشپ کو یہ خطرہ ہے کہ اس لیڈرشپ پر مقامی لوگ قابض ہو جائیں گے۔اس لئے ہمیں اچھے لوگوں کو ووٹ دینا چاہئے۔جو ہم میں سے نیک ہیں ان کا حق ہے کہ وہ آگے آئیں۔اس طرح پرو پیگنڈا کر کے بعض نہایت ہی اسلام کے خطر ناک لوگوں کو آگے لانے کی کوشش کی جارہی تھی۔جب میں 1978ء میں ایک عام احمدی کی حیثیت سے آیا یعنی خلافت کے منصب پر ابھی خدا تعالیٰ نے مجھے فائز نہیں فرمایا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے کچھ نہ کچھ بصیرت مجھے ایسی عطا فرمائی تھی جس سے میں ان باتوں کو بھانپ لیتا تھا، پہچان لیتا تھا۔ان سب لوگوں سے میں نے تعلق قائم کیا ، ایک ذاتی دورہ تھا ، میں پھر رہا تھا اور جہاں جہاں بھی موقع ملا مقامی ، بیرونی ہر قسم کے احمدیوں سے بڑی محبت سے ملا اور ان کو قریب سے دیکھا اور واپس جا کر میں نے بعض لوگوں کے متعلق یہ رپورٹ کی کہ مجھے یہ نہایت خطرناک سازش دکھائی دے رہی ہے۔کچھ لوگ نیکی کے نام پر جماعت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور دو طرح کے خطرات ہیں۔اول اگر وہ واقعہ نیک ہیں تو ان کو جماعت کے نظام کا علم کوئی نہیں۔ان کے اندر احمدیت گہری طور پر جذب نہیں ہے، وہ بیرونی خیالات سے متاثر ہیں اور احمدیت اور اسلام کو اپنے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے اور دوسرے مجھے یہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ ایک سازش کے نتیجے میں ایسا ہو رہا ہے۔چنانچہ ایسے لوگوں کو یہاں کے بعض مخلص احمدیوں نے نہایت سادگی سے ان کو نیک سمجھتے ہوئے اوپر لانے کی کوشش کی اور چونکہ مرکز متنبہ ہو چکا تھا ان کی اس کوششوں کو رد کر دیا گیا اور ان کو وہ عہدے نہیں دیئے گئے جن کے لئے ان کے نام پیش ہوئے تھے۔نتیجہ کچھ لوگوں کے اندر تو یہ غصہ سلگتا رہا کہ جماعت نے ہمیں چنا اور مرکز نے رد کر دیا، یہ کیا وجہ ہے؟ یہ کس قسم کی Democracy ہے