خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 759 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 759

خطبات طاہر جلد ۶ 759 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء ایک بڑی بھاری تعداد ایسی ہے جو اپنی محبت اور اپنی اخلاص میں خالص ہیں۔انہوں نے اس بات کو تحقیر کی نظر سے دیکھا اور رد کر دیا اور ہر ایک نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم کسی ایسے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے جو خدا کی جماعت کو دو نیم کرنے والا ہو اور جو خدا کی جماعت میں تفریق پیدا کرنے والا ہو۔اگر چہ بظاہر ان کی محبت کی خاطر یہ آواز اٹھائی گئی تھی۔یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ شخص جس نے اس آواز کو اٹھایا اس کے دل میں شیطان نے اثر کیا تھا اور براہ راست اس کے دل سے یہ آواز اٹھی تھی یا کسی شیطان نے اس کو اپنا آلہ کار بنایا تھا۔مگر دونوں صورتوں میں اس کی ایک بدنصیبی ہے۔وہ خدا کے دشمن کا آلہ کار بن گیا خواہ لاعلمی میں بنا، خواہ جان کر اور اس بات کو خوب پہچاننے کے بعد بنا مگر دونوں صورتوں میں اس کی ایک بدنصیبی ہے اور میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ کی جماعت پر اس نوع میں بھی کئی قسم کے حملے پہلے ہو چکے ہیں۔یہ حملے ہمیشہ ایک طرف پر نہیں ہوا کرتے۔قرآن کریم ہمیں دوسری طرح مطلع فرماتا ہے کہ شیطان تم پر اس طرح حملے کرتا ہے کہ خود چھپ جاتا ہے اور تمہیں یہ بھی نہیں پتہ چلتا کہ کس طرف سے حملہ ہورہا ہے۔آخری سورۃ قرآن کریم کی جو خصوصا آخری زمانے کے فتنوں سے متنبہ فرماتی ہے اس میں ایک خناس کا ذکر فرمایا۔کہ اے خدا! ہمیں خناس کے شر سے بچا۔الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ فى مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ( الناس: ٦-٧) جولوگوں کے دلوں میں انسانوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے ججوں کے دل میں بھی یعنی بڑے لوگوں کے دل میں بھی اور الناس یعنی چھوٹے لوگوں کے دلوں میں بھی اور خناس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جو بات پھونک کر خود پیچھے ہٹ جائے اور چھپ جائے ،خود سامنے نہ آئے لیکن اس کی بات سامنے آنی شروع ہو جائے۔چنانچہ یہ جو حملے ہیں مختلف رنگ میں ہوتے ہیں۔کبھی بلند شکل میں پیدا ہوتے ہیں کبھی چھوٹوں کی شکل میں پیدا ہوتے ہیں۔کبھی محبت کے نام پر پیدا ہوتے ہیں، کبھی دشمنی کے نام پر پیدا ہوتے ہیں اور یہ وسوسے اپنے رنگ بدلتے رہتے ہیں، نتیجہ ایک ہی ہے کہ وہ لوگ جو حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں ان کے درمیان میں رخنہ پڑ جائے اور ان کے درمیان افتراق پیدا ہو جائے اور ان کے اوپر قبضہ کر لیا جائے۔