خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 751
خطبات طاہر جلد ۶ 751 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء دعوت الی اللہ کا اس مضمون سے بڑا گہرا تعلق ہے۔برائیوں کو دور کرنے کے لئے جو آپ نصیحت کرتے ہیں اس کا اس مضمون سے بڑا گہرا تعلق ہے۔جب تک آپ کے اندر یہ بنیادی صفات پیدا نہ ہو جائیں کہ آپ خدا کے ہو جائیں اور خدا کے ہونے کے نتیجے میں آپ کے تعلق استوار ہوں اس وقت تک آپ کی نصیحت میں وزن پیدا نہیں ہوگا، اس وقت تک آپ کی نصیحت میں طاقت پیدا نہیں ہوگی۔زبان کی بات تو ہوگی لیکن دلوں کو تبدیل کرنے کی اس میں کوئی طاقت نہیں ہوگی کوئی اہلیت نہیں ہوگی۔اسی لئے ایک ہی بات مختلف لوگ کہتے ہیں تو مختلف اثر پڑتے ہیں۔اتنا فرق ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح الاول کے متعلق روایت آتی ہے کہ ایک دوست کسی اپنے غیر احمدی دوست کو قادیان لے کر آئے اور انہوں نے سوچا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سب سے عالم سب سے متقی بزرگ حکیم نورالدین ہیں، ان کے پاس میں ان کو لے کے جاتا ہوں۔انہوں نے نصیحت کی ، انہوں نے سمجھایا انہوں نے اس برائی کے خلاف وہ سارے مضامین بیان فرما دیے جن کا اس برائی سے تعلق ہے اور اس کے باوجود ان کے دل پر کوئی اثر نہ پڑا اور وہ اسی طرح کورے کے کورے واپس آگئے۔واپس جانے سے پہلے ان کو خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس لمبا وقت تو نہیں ہو گا محض ملاقات کروا دوں۔چنانچہ ملاقات کی نیت سے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے صرف چند فقرے نصیحت کے فرمائے اور باہر نکل کر اس شخص نے کہا میری زندگی پر ایک انقلاب آچکا ہے۔وہ ساری برائیاں دھل گئی ہیں جو پہلے میرے دل میں تھیں۔حالانکہ براہ راست ان برائیوں کے متعلق کوئی بھی نصیحت نہیں فرمائی۔چند کلمات تھے۔پس اگر خلیفہ بننے والا جس کے اندر خدا نے اہلیت دیکھی تھی اس میں اور ان خلفاء میں بھی ایک خاص شان رکھنے والے بزرگ کا اپنے وقت میں اپنے اس امام کے ساتھ یہ مناسبت ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ یہ نسبت ہے۔تو باقی آپ سوچ سکتے ہیں کہ درجہ بدرجہ یہ نسبتیں کتنی دراز ہو جاتی ہیں اور کتنے مختلف درجات میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ نصیحت میں وزن تعلق باللہ سے پیدا ہوتا ہے اور تعلق باللہ کے نتیجے میں جو نصیحت اثر کرتی ہے اس کا دلائل سے کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا۔اپنی ذات میں حیرت انگیز انقلابی طاقتیں پیدا ہو جاتی ہیں ایک ایسے شخص میں جس کا اللہ سے تعلق ہو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد ایک لکھنے والے نے جب