خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 750
خطبات طاہر جلد ۶ 750 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَانْقَذَكُمْ مِنْهَا اس مضمون کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ آگ ہی آگ ہے۔فرمایا خدا کی محبت کے نتیجے میں اگر تم اکٹھے ہو جاتے ہو بھائی بھائی بن جاتے ہو تو تم ہر خطرے سے محفوظ ہو جاتے ہو۔اس کے سوا آگ ہی آگ ہے، اس کے سوا جتنے بھی تعلق ہیں وہ آگ کی طرف لے جانے والے ہیں۔پس یہ مضمون ہے جو فرمایا:۔وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا تم تو آگ کے کنارے پر کھڑے تھے کہیں دنیا کی لالچ میں تم خریدے جارہے تھے تمہیں Exploit کیا جارہا تھا، کہیں دنیا کی محبت کے ذریعے تم خریدے جارہے تھے یا نفس کے شہوانی جذبات کے ذریعے تم خریدے جارہے تھے۔جتنے بھی تعلق تمہارے اللہ کے سوا تعلق تھے وہ تو تمہیں آگ میں لے جانے والے تھے دیکھو خدا نے تم پر کتنا احسان فرمایا کہ سب سے پاکیزہ تعلق کے رشتے میں تمہیں باندھ دیا اور ہر دوسرے خطرے سے محفوظ فرمالیا۔كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَيَتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ دیکھو اس طرح تمہارا خدا تمہارے سامنے ان مضامین کو کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ تا کہ تم ہدایت پاؤ۔کتنے عظیم الشان مضامین ہیں جو اس آیت کے کوزے میں بند ہیں اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو یہ ہے میری شان، یہ ہے میرا تم سے تعلق، اس طرح میں تمہیں بچاتا ہوں اور پھر اس طرح تمہیں زندگی کے فلسفے سے آگاہ کرتا ہوں تا کہ تم ہدایت پاؤ۔اتنے عظیم الشان مضامین کے سننے اور سمجھنے کے بعد اگر کوئی قوم پھر بھی آنکھیں بند کرے اور آگ کی طرف بڑھے اس سے زیادہ بدقسمت قوم اور کوئی نہیں ہو سکتی۔جس قوم میں یہ صفات پیدا ہو جائیں کہ اللہ کے تعلق کے نتیجے میں ان کے سارے تعلق قائم ہوں اور ہر اس تعلق کی عظمت ان کے دل میں قائم ہو جائے جو اللہ کے تعلق کے نتیجے میں قائم ہوا ہے ان کی حمیت ان کی غیرت برداشت نہ کر سکے کہ اس شخص پر ہاتھ ڈالے کسی کی زبان یا کسی کا ہاتھ اس شخص پر دراز ہو جس سے وہ خدا کی خاطر محبت کرتا ہے۔ایسی جماعت کو کون منتشر کر سکتا ہے؟ کیسے ممکن ہے کہ اس جماعت کا شیرازہ کوئی بکھیر سکے اور ایسی جماعت کے اندر ایک ایسی عظیم الشان مقناطیسی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دوسروں کو ہدایت کی طرف بلانے کی اہل بن جاتی ہے۔