خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 749
خطبات طاہر جلد ۶ 749 خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۸۷ء نہیں باندھ سکتا تھا، اللہ ہی ہے جس نے ان کے دلوں کو باندھا ہے ۔ یہ بظاہر تو بات عجیب لگتی ہے کہ صلى الله عليسة گویا یا حضرت محمد مصطفی کی صفات کے منافی بات کی جا رہی ہے۔ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ آنحضور صلى الله وليس کے اندر بے انتہا محبت پیدا کرنے کی طاقت موجود ہے اور آپ کی اس طاقت کے نتیجے میں مومن ایک دوسرے کے ساتھ باندھے گئے لیکن یہ آیت بظاہر اس سے برعکس بات پیش کر رہی ہے کہ نہ صرف یہ صلى الله صلى الله ہے کہ ان کو آپس میں اکٹھا کرنے کی طاقت نہیں تو دنیا کی تمام دوستیں اگر ان پر خرچ کر دیتا تب بھی ان کو اکٹھا نہ کر سکتا اور پھر یہ کہ اللہ ہی ہے جس نے ان کے دلوں کو باندھا ہے۔ دراصل آنحضرت کیا ہے اور آپ کے عشاق کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم الشان ، خراج تو نہیں کہنا چاہئے مگر محاورے میں کہا جاتا ہے خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان تعریف فرمائی ہے آنحضرت ﷺ اور آپ کی جماعت کی کہ ان کا تعلق اللہ کے واسطے سے ہے۔ اللہ کی محبت کے نتیجے میں اکٹھا ہوئے ہیں۔ دنیا کے لالچ کے نتیجے میں اکٹھا نہیں ہوئے۔ جو کچھ زمین ہے تو خرچ کر دیتا سے یہ مراد ہے کہ یہ بندے جو تیرے گردا کٹھے ہوئے ہیں یہ خالصہ اللہ کی محبت میں اکٹھے ہوئے ہیں یہ ان کو دنیا کی مال و دولت کی کچھ بھی پرواہ نہیں۔ اس لئے ساری دنیا کے خزانے بھی تو ان پر لٹا دیتا تو کبھی یہ اس طرح اکٹھے نہیں ہو سکتے تھے چونکہ اللہ سے محبت کرنے والے خدا کے غلام ہیں اس لئے خدا کی خاطر تیرے اردگر دا کٹھے ہو گئے ہیں ۔ اصلى الله ۔ اس سے ایک منفی مضمون بھی پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ محمد مصطفی یہ بھی ان خدا کے عشاق کو صلى الله کسی طرح خرید نہیں سکتے تھے دنیا کی دولت کے ذریعے تو غیر اللہ کو کیا طاقت ہے۔ محمد ﷺ کے کسی دشمن کو کیا صلى الله ا طاقت ہے کہ وہ محمد ﷺ کے غلاموں کو دنیا کے لالچ میں خرید لے۔ بہت ہی عظیم الشان تعریف ہے۔ اس سے بڑھ کر کسی نبی اور اس کی جماعت کی ایسی تعریف نہیں فرمائی گئی ، آپ دنیا کی کتابوں کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے ۔ حیرت انگیز تعریف کا کلام ہے کہ دیکھو ! محمد رسول اللہ ﷺ کے سارے غلام اللہ کی محبت کے نتیجے میں اس کے گردا کٹھے ہوئے ہیں اس لئے نا ممکن ہے دنیا کی کسی طاقت کے لئے کہ وہ ان کی محبت پر ہاتھ ڈال سکے، ان کے تعلق کو توڑ سکے، ان کے بھائی چارے کی محبت جو ایک دوسرے کو باندھے ہوئے اس پر کسی قسم کا حملہ کر سکے ۔ فرما یا:۔