خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 748 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 748

خطبات طاہر جلد ۶ 748 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء در پیش ہیں اور سب سے پہلے آپ کے ایمان پر حملہ ہو گا۔اگر ایمان کو نقصان پہنچا اور حبل اللہ پر سے آپ کا ہاتھ ڈھیلا پڑ گیا تو پھر باقی کچھ باقی نہیں رہے گا۔اس لئے حبل اللہ کے مضمون کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا نہایت ضروری ہے۔ہر احمدی کا تعلق حضرت اقدس محمد مصطفی ماہ سے ہو یا آپ کے خلفاء سے یا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یا آپ کے خلفاء سے اس کی بنیاد اللہ کے تعلق پر ہے۔اگر اس کی بنیاد اللہ کے تعلق پر نہیں ہے تو یہ تعلق مصنوعی اور جعلی اور بے معنی ہے۔اگر اللہ کی محبت یہ تعلق پیدا کرتی ہے اور اللہ کی محبت جتنا بڑھتی ہے اتنا ہی حضرت محمد مصطفی علیہ سے تعلق بڑھتا چلا جا رہا ہے تو پھر یقیناً جانئے کہ ایسے شخص کو کسی قسم کا کوئی خطرہ در پیش نہیں ، نہ اس دنیا میں نہ اس دنیا میں اور یہ تعلق والے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہر فتنے سے محفوظ رہتے ہیں۔جب بھی کوئی ایسی بات کی جاتی ہے جس سے ان کے نزدیک ان کا خدا ناراض ہو سکتا ہے وہ جانتے ہیں کہ ایسی بات شیطان کی طرف سے آئی ہے۔جب بھی کوئی ایسی بات کی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کی واضح ہدایات کے منافی نتیجے پیدا کرنے والی ہو خواہ وہ کیسا ہی بھیس بدل کر بات کی گئی ہو اللہ سے تعلق والے جانتے ہیں کہ یہ بات جھوٹی اور شیطان کی طرف سے ہے۔اس لئے ایسی جماعت میں جو اللہ کی رسی پر ہاتھ ڈال لے اور اس تعلق کو مضبوط کر لے کسی قسم کا کوئی رخنہ پیدا نہیں کیا جاسکتا۔فرمایا:۔وَاذْكُرُ وا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ : قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِةٍ اِخْوَانًا یاد کرو اس وقت کو کہ جب خدا نے تم پر ایک عظیم الشان نعمت نازل فرمائی تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تمہارے دلوں کو آپس میں باندھ دیا اور اللہ کی نعمت کے نتیجے میں تم بھائی بھائی بن گئے۔اس مضمون کو ایک اور آیت میں قرآن کریم نے اس رنگ میں بھی بیان فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اگر چاہتا کہ مومنوں کے دلوں کو باندھ دے تو تو ایسا نہیں کر سکتا تھا۔لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلكِنَّ اللهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ (انفال:۲۴) اگر تو وہ سب کچھ خرچ کر دیتا جو زمین میں ہے سب کا سب تب بھی تو مومنوں کے دلوں کو