خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 747 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 747

خطبات طاہر جلد ۶ 747 خطبه جمعه ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء سے ہے۔اس پہلو سے مجھے کوئی اور پرواہ نہیں رہی کہ میرے باقی تعلق کس نوعیت کے ہوں گے۔اگر میں خدا سے سچی محبت کرتا ہوں، اگر میرا تعلق خدا سے مضبوط ہے تو لازمی نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ میرا محمد مصطفی ماہ سے بھی تعلق مضبوط ہوگا۔یہی وہ مضمون ہے جو قرآن کریم کی اس آیت میں حبل اللہ کے الفاظ میں بیان فرمایا گیا۔اللہ کی رسی کہہ کر رسالت کو عظمت دی گئی ہے فی ذاتہ رسالت کی کوئی عظمت نہیں اور اگر حقیقۂ رسالت کی نمائندہ خلافت ہے تو خلافت کو اس رسالت کی نسبت سے عظمت ہے ورنہ فی الحقیقت خلافت تو ایک نمائندگی کا نام ہے، یہ نمائندگی غیر اللہ کی بھی ہوسکتی ہے، ادنی کی بھی ہوسکتی ہے، اعلیٰ کی بھی ہوسکتی ہے۔تو حبل اللہ کے مضمون کو ضرور یاد رکھیں کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے تجربے میں دو قسم کے لوگ دیکھے ہیں۔کچھ وہ جو خلیفہ وقت کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اس کا مزاج معلوم کر کے ایسی باتیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ خلیفہ وقت خوش ہو۔ایسے لوگ اکثر خلیفہ وقت کو خوش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔خصوصا حضرت مصلح موعودؓ کے عظیم دور میں میں نے بڑے قریب سے، بڑی باریک نظر سے اس تعلق کا مطالعہ کیا اور میں نے معلوم کیا کہ بہت سے ایسے جماعت کے عہد یداران ہیں جو خلیفہ وقت کا مزاج پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کچھ اس کے برعکس اور یہ لوگ بھاری اکثریت میں تھے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تربیت یافتہ تھے خدا کو خوش کرنے کی نیت سے خلیفہ وقت کی اطاعت کرتے تھے۔ان کا فیصلہ اس بات پر منحصر تھا کہ میرے خلیفہ سے اس تعلق میں میرا خدا راضی ہوگا کہ نہیں ہوگا اور ہمیشہ ان کے فیصلے درست ہوا کرتے تھے۔کبھی بھی انہوں نے خلیفہ وقت کی ناراضگی مول نہیں لی کیونکہ حبل اللہ کے معنی وہ جانتے تھے۔وہ جانتے تھے کہ اللہ کی ذات سے سارے مضامین شروع ہوتے ہیں، جس کا تعلق اللہ سے مضبوط ہوگا اس کے ہر فیصلے اسی نسبت سے مضبوط ہوں گے اور درست ہوں گے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ایک موقع پر مومن کی یہ تعریف فرمائی کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ مومن خدا کی آنکھ سے دیکھتا ہے (ترمذی کتاب النفسر ، تفسیر سورۃ الحجر حدیث نمبر ۲ ۳۰۵)۔یہی وہ مضمون ہے جس کا سمجھنا جماعت کے لئے آج پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہے۔کیونکہ آج جماعت ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جب کہ مختلف سمتوں سے اس کئی قسم کے خطرات