خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 746
خطبات طاہر جلد ۶ 746 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء حبل اپنی ذات میں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔حبل تو یعنی رسی کسی جگہ باندھی جاتی ہے اور جس چیز سے وہ رسی باندھی گئی ہے اس چیز نے اس رسی میں کچھ صفات پیدا کرنی ہیں۔حبل اللہ کہہ کر نبوت سے انسانوں کے تعلق کا فلسفہ بیان فرما دیا گیا۔یہ فرمایا گیا کہ حقیقت میں اللہ ہی ہے جس کا تعلق نبوت سے اللہ کے واسطے سے ہے اس کے تعلق کو بھی وہ خطرہ نہیں ہے۔جس کو خدا سے نبوت کی وجہ سے تعلق ہے وہ ہمیشہ خطرے میں رہے گا۔اس لئے اگر نبوت سے اپنا تعلق جوڑنا ہے تو اللہ کے تعلق کو فوقیت دو اور اللہ کے تعلق کے نتیجے میں نبوت سے محبت کرو اور یہی مضمون پھر آگے خلافت میں جاری ہوگا اور یہی مضمون پھر آگے خلافت کے نمائندوں میں جاری ہوگا۔ایک مسلمان بزرگ ہیں جن کے اوپر آج کے زمانے میں کسی کو فتویٰ لگانے کی جرات نہیں لیکن اس عظیم بزرگ نے ایک ایسا شعر کہا جس شعر کے متعلق اس زمانے کے بہت سے علماء نے کفر کا اتہام لگایا اور یہ کہا کہ یہ شعر کہنے والا سچا مومن نہیں ہو سکتا۔بظاہر اس شعر میں ایک نہایت ہی خطرناک بات کی گئی ہے جس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کی گستاخی ہورہی ہے۔وہ شعر یہ ہے:۔پرواہ ہے۔پنجه در چه خدا دارم پرواه مصطفی دارم (حوالہ ) کہ میرا پنجہ خدا کے پنجے میں ہے، میرا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں ہے۔مجھے مصطفی امیہ کی کیا یہ ظاہری طور پر ایک انتہائی شدید گستاخی ہے حضرت اقدس محمد مصطفی امی کی کیونکہ ظاہری معنی یہ نظر آتے ہیں کہ کہنے والا یہ کہتا ہے کہ میرا براہ راست خدا سے تعلق ہے محمد مصطفی ہے سے ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔حالانکہ یہ مضمون نہیں ہے وہ ایک بہت ہی بڑے عارف باللہ تھے۔وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ شخص جس کا خدا سے تعلق مضبوط ہومحمدﷺ سے اس کا تعلق لا زما ہوگا اور اس تعلق کو کوئی خطرہ نہیں ہے پھر۔جس کو محمد سے تعلق ہے اور اس کی وجہ سے خدا سے محبت کرتا ہے اس کا صلى الله محمد کا تعلق بھی خطرے میں ہے کیونکہ وہ ایک انسان تھے اور ان کی عظمت رسالت میں تھی ، ان کی عظمت نمائندگی میں تھی۔اس لئے پنجہ در پنجہ خدا دارم کا مطلب یہ ہے کہ میرا ہر تعلق اللہ کے واسطے