خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 740 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 740

خطبات طاہر جلد ۶ 740 خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۸۷ء یہ بتاتا ہے کہ وہ سردار جس سے حضور ﷺ محو گفتگو تھے اس نے نا پسند کیا کہ ایک ادنی آدمی آیا ہے اور اس کی ناپسندیدگی ظاہر کرتی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس کی طرف توجہ کی ہوگی۔اس مضمون کو خدا تعالیٰ نے بیان فرماتے ہوئے تمام دوسرے مسلمانوں کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ جو تمہاری طرف توجہ کرے تم اس کی طرف متوجہ ہوئے کرو، اس کو لطف کی نظر سے دیکھا کرواس سے پیار کا سلوک کیا کرو۔جو تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوتا اس کے اوپر وقت ضائع کرنے کی بجائے متوجہ ہونے والے کو تر جیح دو۔اس مضمون کو میں نے امریکہ میں بھی بیان کیا اور آپ کے سامنے بھی رکھتا ہوں۔وہ قومیں جو پسماندہ قومیں کہلاتی ہیں وہ لوگ جن کو لوگ تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں عموما دیکھا گیا ہے کہ جب ان تک دین کا پیغام پہنچایا جائے تو وہ جلدی جواب دیتے ہیں جلدی لبیک کہتے ہیں۔تو یہ سب خدا کی زمینیں ہیں خدا کی نظر میں کوئی بھی گھٹیا اور پسماندہ نہیں ہے اور کوئی بھی ذلیل نہیں ایک ریڈ انڈین اگر آپ کی بات کا جواب دے تو وہی خدا کی نظر میں معزز ہے۔اس لئے آپ زمینوں کی تلاش میں بھی عقل اور ہوش سے کام لیا کریں۔جو جلد جواب دیتے ہیں جلد لبیک کہتے ہیں جلد تعاون کرتے ہیں ان کی طرف زیادہ توجہ دیں۔جو بار بار بات سننے کے باوجو د رسما توجہ کرتے ہیں اور حقیقی طور پر تبدیلی پیدا نہیں کرتے ان کو نظر انداز کر دیا کریں یا معمولی توجہ دیا کریں اسی نسبت کے لحاظ سے۔بہر حال یہ مضمون تو بہت ہی وسیع ہے نہ ختم ہونے والا ہے۔میں آخر پر آپ کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ جو کچھ بھی بار بار آپ کے سامنے پروگرام رکھے جاتے ہیں ان کو توجہ سے سنا کریں انہیں قبول کیا کریں اور عمل کے سانچوں میں ڈھالا کریں اگر آپ یہ کریں گے تو آپ کو تکلیف نہیں ہوگی ، آپ کی زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا ہوں گی ، آپ کو زندہ رہنے کا زیادہ لطف آئے گا، آپ کو ایک موقع پر یہ محسوس ہوگا کہ آپ کی پہلی زندگی بریکار اور بے معنی تھی۔اب جو زندگی آپ نے بنائی ہے وہ بہت زیادہ پر لطف ہے اور بہت زیادہ معنی خیز ہے با مقصد۔ہے اس پہلو سے وہ لوگ جو دعوت الی اللہ کی طرف توجہ نہیں دیتے وہ بیچارے قابل رحم ہیں بالکل اسی طرح قابل رحم ہیں جس طرح ایک کمر والا کھیت یا کسی اور بیماری کے نتیجے میں ایسا کھیت جو بیج کو اگانے کی بجائے اپنے اندر سمیٹ لیا کرتا ہے۔نصیحت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اسے ضائع کر