خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 739 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 739

خطبات طاہر جلد 4 پر بہت بڑے نتیجے نکلتے ہیں۔739 خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۸۷ء تو جوز زمینیں زرخیز اور نتیجہ خیز ہیں جو تعاون کرنے والی زمینیں ہیں ان کو آپ چھوڑ رہے ہیں اور سفید چمڑی کے پیچھے پڑ گئے ہیں کہ سفید ہو گا تو آپ کو عزت ملے گی۔عزتیں کون سی ہیں جو دنیا سے تعلق رکھنے والی ہیں۔فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيْعًا ( النساء:۱۴۰) عزتیں تو ساری کی ساری خدا کی ہیں اور خدا کے ہاتھ میں ہیں جو قوم خدا کے نام پر لبیک کہتی ہے ، نیک باتوں کو توجہ سے سنتی ہے اور جلد آگے بڑھتی ہے وہی عزت والی قوم ہے۔اسی کے آنے سے آپ کی عزت بڑھے گی جو توجہ نہیں کرتے ان کی طرف آپ کا توجہ دینا قرآن کی نصیحت کے منافی بات ہے، قرآنی تعلیم کے منافی بات ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں وہ سورۃ موجود ہے جس میں اس میں اس مضمون کو بیان فرمایا:۔(عبس ایم) عَبَسَ وَتَوَلَّيلِ أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزِّى أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرُى اگلا ایک ٹکڑا آیت کا یاد نہیں رہا مگر مضمون یہ ہے کہ خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو یہ سمجھا رہا ہے کہ ایک موقع پر جب حضور اکرم ﷺ ایک سردار مکہ سے تبلیغ میں مصروف تھے ایک اندھا صحابی حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے آنے کے نتیجے میں رسول اکرم ﷺ نے اس کی طرف توجہ فرمائی ہوگی نتیجہ یہ نکلا کہ جس سردار سے آپ بات کر رہے تھے اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار ظاہر کئے۔یہ وہ تفسیر ہے جو حضرت مصلح موعودؓ نے فرمائی۔عام طور پر جو مسلمان مفسرین ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ جب وہ اندھا آیا تو آنحضرت ﷺ نے ناپسند فرمایا کہ میں تو ایک سردار سے بات کر رہا ہوں یہ معمولی آدمی اور پھر ہے بھی اندھا یہ آ کر مجھے بار بار تنگ کر رہا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے گویا کہ رسول کریم ﷺ سے ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ اس کے آنے پر تم نے تیوری چڑھائی اور ساتھ یہ سمجھایا کہ جو توجہ کرتا ہے اس کی طرف توجہ ہونی چاہئے جو توجہ نہیں کرتا اس کی طرف توجہ نہیں ہونی چاہئے۔حضرت مصلح موعودؓ نے جیسے کہ میں نے بیان کیا ہے اس مضمون کو اور رنگ میں سمجھا اور اور رنگ میں بیان فرمایا۔آپ کی تفصیل کے مطابق عبس کا لفظ نا پسندیدہ لفظ ہے اور آنحضرت ﷺ پر اطلاق پاہی نہیں سکتا۔آپ نے یہ تفسیر فرمائی کہ خدا تعالیٰ