خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 736 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 736

خطبات طاہر جلد ۶ 736 خطبہ جمعہ ۶ / نومبر ۱۹۸۷ء سامانِ تجارت اس کے ساتھ کیا اور کہا کہ جاؤ اور محنت کرو اور کماؤ اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر پھر واپس آکر میرے ساتھ مل کر تجارتوں میں حصہ لو۔اتفاق ایسا ہوا کہ پہلی ہی منزل پر جنگل میں جب اس قافلے نے پڑاؤ کیا تو اس نے ایک عجیب نظارہ دیکھا۔اس نے دیکھا کہ جس درخت کے نیچے یا اس کی شاخوں پر جیسی بھی صورت تھی وہ آرام کر رہا تھا اس کے قریب ہی ایک شیر نے ایک شکار کیا اور اس کے بہترین حصے کھا کر باقی سارا جسم جانور کا وہیں چھوڑ کر وہ کہیں چلا گیا۔جب وہ شیر چلا گیا تو اس کے پیچھے ایک لگڑ بگڑ جس کی پچھلی ٹانگیں ماری ہوئیں تھیں اور وہ خود شکار نہیں کر سکتا تھا وہ ایک جھاڑی سے نکلا اپنی ٹانگیں گھسیٹا ہوا آہستہ آہستہ اس چھوڑے ہوئے شکار کی طرف بڑھا اور اس نے اپنا پیٹ بھرا اور پھر وہ بھی جنگل میں غائب ہو گیا۔یہ نظارہ دیکھ کر اس نے وہیں سے واپسی کا فیصلہ کیا اور واپس جا کر اپنے باپ سے کہا کہ سب تجارتیں بریکار اور بے معنی ہیں میں نے تو ایک ایسا نظارہ دیکھا ہے جس سے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ رازق خدا ہے اور وہ سب کو رزق دیتا ہے خواہ وہ رزق کمانے کے قابل ہو یا نہ قابل ہو۔اس لئے میرا تو دل اچاٹ ہو گیا ہے دنیا کی تجارتوں سےاب میں سب کچھ چھوڑ کر صرف خدا کی یاد میں بسر کرنا چاہتا ہوں۔ان کے والد بھی بہت بڑے بزرگ تھے خدا سے بہت محبت کرتے تھے لیکن زیادہ صاحب عرفان تھے ، بیٹے کی نسبت بہت زیادہ صاحب عرفان تھے۔انہوں نے ساری بات سن کر اسے جواب دیا کہ مجھ سے یہ بات پوشیدہ تو نہیں میں جانتا ہوں کہ خدا رازق ہے مگر میں یہ چاہتا تھا کہ خدا تمہیں وہ شیر بنائے جس کے مارے ہوئے رزق سے دنیا فائدہ اٹھائے وہ لگڑ بگڑ نہ بنائے جس کو اپنی بقا کے لئے شیروں کے شکار کی ضرورت ہو۔یہ بات اس کے دل میں ایسی پیوستہ ہوئی کہ اس دن سے اس کی زندگی پر ایک انقلاب آ گیا۔آپ خدا کے وہ شیر ہیں آپ میں سے ہر ایک کا ذکر قرآن کریم میں ان شیروں کے طور پر ملتا ہے جنہوں نے خدا کی راہ میں کچھ Produce کرنا ہے کچھ پیدا کرنا ہے اور بھیک منگے نہیں بنا لوگوں کے شکار پر زندہ نہیں رہنا بلکہ اپنا شکار خود پیدا کرنا ہے۔آپ میں سے ہر ایک کو زراع کی جماعت میں داخل ہونا چاہئے اور ہر ایک کو خدا کی راہ میں کچھ پیدا کرنا چاہئے تا کہ لوگ آپ کے شکار سے فائدہ اٹھا ئیں آپ لوگوں کے مارے ہوئے شکار کی طرف نظریں نہ جائیں۔اس شان کی جماعت بننا ہے آپ کو اس لئے یہ ٹھیک ہے کہ آپ کی جماعت میں چند لوگ