خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 733 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 733

خطبات طاہر جلد ۶ 733 خطبہ جمعہ ۶ / نومبر ۱۹۸۷ء کے نتیجے میں آپ دیکھیں انشاء اللہ آپ کے کھیتوں میں کیسی برکت پڑے گی اور کیسے وہ شاداب ہوں گے اور کیسے لہلہاتے ہوئے آپ کے دلوں کو خوش کریں گے۔یہ مضمون جو ہے یہ ان سب الزراع پر صادق آتا ہے جو کسی ملک کی انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہیں، مجلس عاملہ مرکزیہ ہو یا مقامی مجالس عاملہ ہوں کیونکہ میں نے تمام مجالس عاملہ کی ذمہ داری لگائی ہے کہ ہر مہینے وہ تبلیغ کے موضوع کو ضرور زیر بحث لائیں اور کوئی مجلس عاملہ ایسی نہ ہو جس میں مہینے ایک بار ایجنڈے پر یہ مضمون نہ ہو کہ ہم نے تبلیغ کو زیر نظر لانا ہے اور دیکھنا ہے کہ ہم کیا کوششیں کر رہے ہیں؟ ان کوششوں کا کیا نتیجہ نکلا رہا ہے؟ کتنے نئے احمدیوں کو ہم نے داعی الی اللہ بنا دیا ہے اور ایک نیا اعزاز بخشا ہے داعی الی اللہ بنا کے ان لوگوں میں شامل کر دیا ہے جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور کتنے داعی الی اللہ ہیں جو کمزور تھے یا ان کو طریقہ نہیں آتا تھا ان کو ہم نے طریقے سمجھائے ان کی کمزوری کو دور کیا ان کی مدد کی یہاں تک کہ اللہ کے فضل کے ساتھ وہ پہلے سے بہتر داعی الی اللہ بن گئے۔اس قسم کے مضامین پر غور کرنے کے لئے میں نے ہدایت کی تھی کہ ہر مجلس عاملہ ایک دفعہ اسے زیر غور لائے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔بہت کم ممالک نے سنجیدگی سے اس ہدایت کی طرف توجہ دی ہے اور یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ اگر آپ خلیفہ وقت کی ہدایت ، میں ہوں یا کوئی بھی ہو جو بھی اس منصب پر فائز ہوتا ہے خواہ میرے جیسا کمزور ہی کیوں نہ ہواگر اس کی ہدایات کو آپ نظر انداز کریں یا تخفیف کی نظر سے دیکھیں گے تو آپ سے برکتیں اٹھ جائیں گی۔میرا ساری زندگی کا تجربہ ہے یعنی میں تو خلیفہ ابھی چند سال ہوئے بنالیکن میں نے دو خلافتوں کو دیکھا ہے بڑے غور کے ساتھ اور قریب سے اور میرا ساری زندگی کے تجربے کا نچوڑ یہ ہے کہ خلیفہ وقت کی ہدایت پر اگر آپ اخلاص کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ توجہ دیں گے خواہ آپ کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے تو آپ کے کاموں میں غیر معمولی برکت پڑے گی اور اگر آپ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے بھلائیں گے تو پھر آپ کے کاموں میں سے برکت اٹھ جائے گی۔جماعت کو اس وقت بڑی تیزی کے ساتھ کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور کثرت کے ساتھ انز راع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اس لئے اس معاملے کی طرف زیادہ سنجیدگی سے توجہ کرنی چاہئے۔پھر اس مثال کو اور طرح سے بھی پرکھ کر دیکھیں حیرت انگیز وسعت اس مثال میں پائی جاتی