خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 731
خطبات طاہر جلد ۶ کی ضرورت ہے۔731 خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۸۷ء امراء کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے اور ان کی مجالس عاملہ کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے ،سیکرٹریان تبلیغ کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔صرف ایک دفعہ کی یا دو دفعہ کی نصیحت کافی نہیں ہے۔آپ سب جو جماعت کے عہدیدار ہیں ، آپ کا جماعت سے واسطہ روز روز کا پڑنے والا ہے۔میں ہر خطبے میں تو اس بات کو چھیڑ نہیں سکتا اور بہت سے مضامین ہیں جن کی طرف توجہ دینی پڑتی ہے۔ساری دنیا کے بہت سے مسائل ہیں جن کو باری باری زیر نظر لا کر جماعت کے سامنے رکھنا ہوتا ہے اور نہ میں بار بار یہاں آسکتا ہوں اس لئے جو عہد یدار ہیں وہ ان الزراع میں داخل ہیں جو میرے ساتھ شامل کئے گئے ہیں ان کو مسلسل توجہ کرنی چاہئے۔آپ نے دیکھا ہوگا بعض زمیندار خود کھیتوں پر حاضر نہیں رہ سکتے ان کی بڑی بڑی زمینیں ہوتی ہیں۔آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن اچھے مینیجر رکھتے ہیں اور اچھے مینجر پھر ان کی نصیحتوں کو یا درکھتے ہیں جو وہ آکر ہدائتیں دے کر جاتے ہیں ان پر عمل کرواتے ہیں اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن بدن زمیندارہ کی حالت بہتر ہونی شروع ہو جاتی ہے اور اگر مینیجر کمزور پڑ جائیں یا بات سنیں اور بھلا دیں تو پھر وہ دورے بے کار ہو جاتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ مجھے بھی کئی دفعہ بچپن میں سندھ جانے کا موقع ملا۔آپ جا کر وہاں ایک ایک مہینہ ٹھہر تے تھے۔بعض دفعہ چند دن صرف موقع ملتا تھا لیکن سب مینیجر کو، منشیوں کو بلا کر اور ان کے ساتھ محنت کرتے تھے ، ان کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ان کو سمجھاتے تھے کیا کرنا چاہئے ،کس طرح کرنا چاہئے اور جب واپس جایا کرتے تھے تو کچھ لوگ ان نصیحتوں کو پکڑ کر یا درکھتے تھے اور کچھ بھلا دیا کرتے تھے شکر کرتے تھے کہ دورہ ختم ہوا اور عزت رہ گئی اور نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ عزت نہیں رہتی تھی اگلے دورے میں پھر وہ ذلیل ہوتے تھے پھر ان کی ساری کمزوریاں سامنے آجایا کرتی تھیں اور وہ اثر کو مٹانے کے لئے اپنی کمزوریوں کو نظر سے اوجھل رکھنے کی خاطر اس وقت نمازوں میں بڑی توجہ کیا کرتے تھے اور بعض تو نمازوں میں خوب رویا بھی کرتے تھے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا گھر واپس آکے کہ مجھے پتا لگ جاتا ہے کس نے سارا سال کام نہیں کیا کیونکہ نماز میں جس کی زیادہ رونے کی آواز آتی ہے وہ سب سے نائما ہوتا ہے۔وہ خدا کے سامنے رات کو روئے تو اور بات ہے مجھے سنا کر کیوں روتا ہے صاف پتا لگتا ہے