خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 730
خطبات طاہر جلد ۶ 730 خطبہ جمعہ ۶ / نومبر ۱۹۸۷ء تلاش کر ہی لیا کرتے ہیں اور کچھ مشکل نہیں ہے اور سارا سال چند دوستوں کو چن لینا ان سے خاص طور پر پیار اور محبت کا سلوک کرنا رفتہ رفتہ ان کو یہ بتانا کہ میں اگر مختلف ہوں تو کیوں مختلف ہوں، اپنی ذات میں ان کی دلچسپی پیدا کرنا اور پھر اس ذاتی دلچسپی کو جماعتی دلچسپی میں تبدیل کر دینا یہ ایک عام بات ہے کوئی بہت مشکل کام نہیں ہے۔اگر آپ کرنا شروع کریں گے اور دعا کریں گے تو آپ کو بھی آجائے گا۔لیکن عموما میں نے دیکھا ہے کہ لوگ ایک بات کو سن کر اثر قبول کرتے ہیں اور پھر اگر کچھ عرصہ اس اثر سے فائدہ نہ اٹھا ئیں تو وہ اثر بھی مٹ جایا کرتا ہے پھر نیند آجاتی ہے پھر اپنی پہلی حالت پر وہ راضی ہو جاتے ہیں۔تو جب بھی آپ اچھی بات سنتے ہیں وہ وقت ہوتا ہے اس پر عمل کرنے کا اسی وقت کچھ فیصلے کیا کریں، اسی وقت اپنے طرز عمل میں کچھ تبدیلیاں پیدا کیا کریں۔اگر آپ ایسا کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نیک نصیحتیں آپ کے اندر نئی روحانی روئیدگی پیدا کریں گی اور آپ کے اندر سے نئی نئی ترقی کی شاخیں پھوٹیں گی ، آپ کی وجود میں پاک تبدیلیاں پیدا ہوں گی جن کے نتیجے میں ماحول میں آپ پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔اسی طرح اور بھی کئی پہلوؤں سے یہ مثال تبلیغ کے معاملے میں حیرت انگیز طور پر صادق آتی ہے۔زمینداروں کو تجربہ ہے کہ جب وہ کھیت میں گندم یا کوئی اور بیچ ڈالتے ہیں، اس پر محنت کرتے ہیں جیسا میں نے بیان کیا بعض حصے جواب نہیں دیتے۔بعض جواب دیتے ہیں لیکن اگر وہ مسلسل محنت کرتے رہیں تو جو پہلے جواب نہیں دیتے تھے وہ بھی جواب دینے لگ جاتے ہیں۔زمیندار جانتا ہے کہ جس کھیت کی طرف توجہ رکھی جائے وہ آہستہ آہستہ پہلے سے زیادہ Responsive ہونا شروع ہو جاتا ہے اور کچھ اور زمین کے ٹکڑے جو پہلے ناکارہ تھے شامل ہونے شروع ہو جاتے ہیں پھر بنے کٹ کٹ کے کھیت میں داخل ہونے لگ جاتے ہیں یہاں تک کہ درمیان میں چلنے کی جگہ بھی تھوڑی سی رہ جاتی ہے۔کھیتوں کے درمیان جو ڈنڈیاں بنی ہوئی ہوتی ہیں اچھے زمیندار جانتے ہیں کہ آہستہ آہستہ وہ بھی کھیت میں داخل ہونے شروع ہو جاتے ہیں جو کلر زمین ہے اس کا کلر کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جو لیول (Level) نہیں تھی پانی نہیں پہنچتا تھا پھر وہ لیول ہونی شروع ہو جاتی ہے۔تو وہ کھیت جن پر محنت کی جائے وہ جواب دیتے ہیں اس لئے بار بار یاد دہانی کرانے کی ضرورت ہے اور بار بار محنت