خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 729
خطبات طاہر جلد ۶ 729 خطبہ جمعہ ۶ / نومبر ۱۹۸۷ء لبیک کہنے والوں کی ، ہاں میں جواب دینے والوں کی کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ کیا واقعہ ہے۔جب جماعت کا دورہ کرتا ہوں، دوستوں سے ملتا ہوں تو ان میں مجھے اخلاص بھی دکھائی دیتا ہے سچائی بھی نظر آتی ہے، دین سے محبت بھی دکھائی دیتی ہے، نیک تمنائیں بھی نظر آرہی ہیں لیکن جب دعوت الی اللہ کی طرف بلاتا ہوں تو عجیب بات ہے کہ خاموشی دکھائی دیتی ہے۔اس لئے اپنی کچھ فکر کریں سوچیں کہ کیا وجہ ہے کیوں آپ لوگ ان لوگوں میں شامل ہونے کی تمنا نہیں رکھتے جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔بہت ہی خوش نصیب لوگ ہیں وہ جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے، خدا کے کلام میں ذکر ہے۔سوچیں تو سہی کہ کتنا عظیم مقام ہے اور اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے آپ سے جو توقع کی جارہی ہے وہ ناممکن نہیں ہے اتنا بڑا کام نہیں ہے جو ہو نہ سکے۔امر واقعہ یہ ہے کہ بہت سے احمدی جو علمی لحاظ سے بہت کمزور ہیں صرف سچے اخلاص سے کوشش کرتے ہیں اور ہمہ تن مصروف رہتے ہیں تبلیغ کے کاموں میں اور سوچتے رہتے ہیں دعائیں کرتے رہتے ہیں ان کو ضرور پھل ملتا ہے اور بہت بہت بڑے اچھے اچھے پھل ملتے ہیں۔ان کے علم کے مقابل پر نہیں بلکہ ان کے اخلاص کے مقابل پر ان کو پھل ملتا ہے علم کی بنا پر نہیں بلکہ اخلاص کی بنا پر ان کو پھل ملتا ہے۔اس لئے کچھ نہ کچھ ایسی بات ضرور ہے یا عدم توجہ ہے یا کہیں کوئی اور کمزوری ہے یاد نیا داری کی دلچسپیاں ہیں جنہوں نے اپنی طرف توجہ مائل کی ہوئی ہے لیکن اگر آپ میں سے ہر شخص اس آواز پر لبیک کہنا چاہے تو ہر شخص کے لئے رستہ کھلا ہے۔تبلیغ کے اتنے مواقع دنیا میں پیدا ہوتے رہتے ہیں کہ ایک شخص جو بیدار مغزی کے ساتھ رستے تلاش کرنا چاہے اللہ تعالیٰ خود اس کو رستے مہیا فرما دیتا ہے۔رستہ چلتے کوئی سیر گاہ میں آپ جارہے ہوں سیر کر رہے ہوں سیر تو ہوگی ہی ساتھ لیکن کئی رستے میں ایسے دوست ملتے ہیں جن کے ساتھ علیک سلیک ہو جاتی ہے ان کے ساتھ محبت کا سلوک کیا جائے ، اخلاص کا سلوک کیا جائے تو فوری طور پر متوجہ ہوتے ہیں اور چونکہ عام طور پر دوسرے سیر کرنے والے ایک دوسرے سے غیر معمولی حسن و احسان کا سلوک نہیں کرتے اس لئے وہ غیر معمولی طور پر ایسے اخلاق کے مظاہرہ سے متاثر ہوتے ہیں اور اس وقت جو تعلقات قائم ہوتے ہیں اس کے نتیجے میں پھر تبلیغی روابط آگے بڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح رستہ چلتے بازار میں جاتے ہوئے ، شاپنگ کرتے ہوئے دیگر اپنے کاموں کے دوران جن لوگوں کو شوق پیدا ہو جائے وہ کچھ نہ کچھ نئے لوگ