خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 725 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 725

خطبات طاہر جلد ۶ 725 خطبہ جمعہ ۶ نومبر ۱۹۸۷ء ی ذکر کرتا ہے اور اس ذکر کو چھوڑتا نہیں حالانکہ قرآن کریم کی رو سے ہر شخص پر تبلیغ فرض نہیں ہے لیکن اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھی بنا ہے تو پھر ضرور فرض ہے پھر ہر شخص پر فرض ہے کیونکہ قرآن کریم نے تعریف ہی یہ بیان فرمائی کہ محمد مصطفی ﷺ کے وہ ساتھی جو دور آخر میں پیدا ہوں گے ان کی یہ مثال انجیل میں بیان بھی ہوئی ہے ، پیشگوئی کے طور پر اور وہی ساتھی شمار ہوں گے جو خدا کی راہ میں کھیتی اگائیں گے اور پھر اس کی پرورش خود کریں گے یہاں تک کہ وہ کھیتی تو انا ہو جائے۔تو ہر جگہ ہر احمدی جو دعوت الی اللہ کا کام کرتا ہے اس کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے اور انہیں آیات میں اس کا ذکر موجود ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل کا ذکر موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کھیتی کو توانائی بخشے گا اور اسے مضبوط تر کرتا چلا جائے گا یہاں تک کہ کھیتی لگانے والے یا بیج بونے والے کا دل تر و تازہ ہو جائے گا اس نظارے کو دیکھ کر اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی يُعْجِبُ الزُّرّاع کا یہ مطلب ہے اور جوں جوں مومنوں کے دل اس وجہ سے ٹھنڈے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے ان کی محنتوں کو عظیم الشان پھل لگایا اسی طرح ساتھ ساتھ دشمنوں کا غیظ و غضب بڑھتا چلا جائے گا۔اب یہاں غیظ و غضب کا بڑھنا لا زما ڈرانے کے لئے نہیں ہے۔جب یہ فرما دیا کہ وہ اپنی مرکزی شاخ پر یا اپنی ڈنڈی پر مضبوط اور توانا ہو گئی اور مومنوں کے دل ٹھنڈے ہو گئے تو صاف پتا چلا کہ اس کھیتی کو خطرہ کوئی نہیں اس لئے ليَغِيظُ بِهِمُ الْكُفَّارَ کا جو مضمون بیان فرمایا گیا ہے وہ خوف دلانے کے لئے نہیں ہے بلکہ علامت کے طور پر ہے کہ جتنا دشمن تم سے زیادہ جلے، زیادہ غیظ و غضب دکھائے اتنا ہی تمہاری کامیابی کا سرٹیفیکیٹ ہے، اتنا ہی تمہیں مطمئن کرنے والی بات ہے کہ تم خدا کے فضل سے صحیح رستے پر ہو۔تمہاری ترقی کے ساتھ دشمن کا غضب اس طرح باندھ دیا گیا ہے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ وہ غضب بھی بڑھتا چلا جائے گا۔اس لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ جماعت احمد یہ دشمن کے غضب کو ٹھنڈا کر سکے۔آپ جو چاہیں کریں اگر قرآن کریم کی تعریف کی رُو سے آپ محمد رسول کریم ﷺ کے ساتھی بنتے ہیں تو آپ کو لازما خدا کی راہ میں ایک کھیتی الگانی ہوگی اور نئے نئے روحانی بچے پیدا کرنے ہوں گے اور جب آپ یہ کریں گے تو قرآن کہتا ہے کہ لا زما د شمن غصہ کھائے گا اور خدا کی راہ میں کام کرنے کے نتیجے میں دین کی خدمت کے نتیجے میں جو دشمن کو غصہ پیدا ہوتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ بچاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس