خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 724
خطبات طاہر جلد ۶ 724 خطبہ جمعہ ۶ نومبر ۱۹۸۷ء اپنے حالات کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے اور اپنے مقام کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے اور اس مقام سے جو توقعات وابستہ ہیں ان کے اوپر نظر رکھنی چاہئے کہ وہ کیا تو قعات ہیں۔دوسرا پہلو جو ان آیات میں بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ يُعْجِبُ الزراع فرما کر یہ بتایا کہ اس روحانی فصل کو کاشت کرنے والا ایک ہاتھ نہیں ہے بلکہ بہت سے ہاتھ ہیں کیونکہ زارع نہیں فرمایا الزُّرَّاع فرمایا جو جمع ہے۔عام طور پر بعض احمدی جو پوری طرح قرآن کریم کا ترجمہ نہیں سمجھتے وہ بھی یہ خیال کرتے ہیں کہ الزراع سے مراد خدا تعالیٰ ہے۔خدا تعالیٰ نے وہ کھیتی لگائی اور خدا تعالیٰ کو اس کی نشو و نما پسند آرہی ہے جبکہ دشمن اس سے جل رہے ہیں۔یہ تصور ہے جو عام طور پر لوگوں کے ذہن میں ہے لیکن امر واقع یہ ہے کہ یہاں الزراع سے مراد ساری جماعت احمد یہ ہے جس طرح مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ میں پہلے دور کے اندر سارے صحابہ شامل ہو گئے تھے اسی طرح دوسرے دور میں ساری جماعت مراد ہے لیکن یہاں ان کا نام الزراع رکھا گیا، کھیتی لگانے والے اور کھیتی کاشت کرنے والے اور ان میں سے ہر ایک کی کھیتی الگ الگ طور پر کونپل نکال رہی ہے ان میں سے ہر ایک کی کونیل جو زمین سے پھوٹ رہی ہے وہ تناور ہوتی چلی جارہی ہے اور ایک مضبوط شاخ بن رہی ہے۔شاخ کا لفظ میں اس لئے استعمال کر رہا ہوں کہ جس قسم کی فصلوں کا ذکر ہے اس کے لئے تنے کا لفظ استعمال نہیں ہوسکتا مگر مراد یہی ہے جو درمیانی مرکزی ڈنڈی گندم کی یا چاولوں وغیرہ کی ہوتی ہے۔یہاں وہی مراد ہے سوق سے مراد وہ ڈنڈی ہے جو عام کھیتیوں کی مرکزی ڈنڈی ہوا کرتی ہے۔بہر حال اس تشریح کے ساتھ میں اس مضموں کو دوبار شروع کرتا ہوں کہ یہاں الوداع صلى الله سے مراد چند لوگ نہیں ہیں جنہوں نے کھیتی کاشت کی ہے جس طرح پہلے دور میں آنحضور ﷺ کے تمام غلام تمام صحابہ اس تعریف میں داخل کر دیئے گئے اسی طرح لفظ الزراع نے اسی مضمون کو دوبارہ بیان کیا ہے اور ساری جماعت پر اطلاق پاتا ہے۔اس بات کو بھلا دینے کی وجہ سے ہم نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔اس بات کو بھلا دینے کی وجہ سے ہر احمدی کو یہ پتا ہی نہیں کہ قرآن کریم میں میرا کیا مقام بیان ہوا ہے۔ہر احمدی سے جب میں توقع رکھتا ہوں کہ وہ تبلیغ کرے اور خدا کی راہ میں ایک کھیتی اگائے اور روحانی اولاد پیدا کرے تو لوگ سمجھتے ہیں شاید اس کو اپنا ذاتی جنون ہی ہو گیا ہے، بار بار