خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 723 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 723

خطبات طاہر جلد 1 723 خطبہ جمعہ ۶ نومبر ۱۹۸۷ء رفتہ وہ کمزوری اور نرمی طاقت میں تبدیل ہو رہی ہے لیکن ایسی طاقت نہیں جس میں غیر معمولی دفاعی طاقتیں پائی جائیں بلکہ اپنی ذات میں ایک طاقت ہے جو رفتہ رفتہ ترقی پذیر ہے لیکن اس کے باوجود ایک فصل کی ڈنڈی خواہ کتنی بھی مضبوط ہو جائے اس کو دشمن کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں ہوا کرتی ۔ اسی لئے ساتھ ہی فرمایا يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ جو زمیندار ہیں اس کے کاشت کرنے والے وہ تو صورت کو دیکھ کر بہت خوش ہو رہے ہیں لیکن ان کے دشمن جو کفار ہیں ان کو یہ حالت دیکھ کر بہت اس ہی غصہ آتا ہے اور جتنا جتنا وہ فصل بڑھتی چلی جاتی ہے اتنا دشمن کا غصہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اب یہ دو نقشے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مختلف ہیں لیکن جن لوگوں پر یہ حالات وارد ہونے والے ہیں ان کو حضرت محمد مصطفی اللہ ہی کا ساتھی قرار دیا گیا اور کسی تیسرے کا ذکر کوئی نہیں ۔ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ محمد مصطفی ﷺ اور ان کے ساتھیوں کے یہ دو نقشے حضرت محمد اصلى عروس صلى الله ہیں۔ اس مسئلے سے پردہ اس وقت اٹھتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پہلا حوالہ تو رات کا ہے اور مصطفی ﷺ کا پہلا جلوہ مثیل موسیٰ کے طور پر تھا اس لئے لازما پہلے دور کے ساتھیوں کا پہلے ذکر ہے اور دوسرا حوالہ انجیل کا ہے اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کا دوسرا جلوہ مسیحیت کی طرح نرم شان والا جلوہ ہے جس کو احمد نام کے جلوے سے موسوم کیا جاتا ہے۔ تو صاف پتہ چلا کہ تاریخ اسلام کے دو مختلف ادوار کا ذکر ہے لیکن جن لوگوں کا ذکر ہے وہ محمد رسو اللہ اے کے ہی ساتھی ہوں گے کسی اور کے ساتھی نہیں ۔ صلى الله اس سے ایک مزید مسئلہ حل ہوا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک الله صلى الله نئی نبوت کا نعوذ بالله آغاز کیا اور ایک نئی امت بنالی ، یہ بالکل جھوٹ اور بے بنیاد الزام ہے ۔ قرآن کریم کی رو سے آنحضرت ﷺ کی دوسری شان میں جو لوگ بھی ہوں گے وہ بلا واسطہ آنحضرت ﷺ ہی کے ساتھی قرار دیئے گئے ہیں ۔ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد تو ساتھی بنانے کا ایک ذریعہ ہے لیکن ساتھی محمد رسول اللہ ﷺ کے ہی بنتے ہیں۔ اس پہلو سے جماعت احمدیہ کا جو مقام ہے وہ عام دوسرے تمام فرقوں اور دوسرے تمام مذاہب سے بالکل مختلف ہو جاتا ہے، بلند تر ہو جاتا ہے، ایک امتیاز اختیار کر جاتا ہے۔ حضرت رسول اکرم ﷺ کے ساتھی قرار صلى الله م دے دینا کسی جماعت کو اس سے بڑا اعزاز ممکن ہی نہیں ہے۔ چنانچہ اس پہلو سے جماعت احمد یہ کو