خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 714
خطبات طاہر جلد ۶ 714 خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۷ء رکھے اور ان فہرستوں کا موازنہ کر کے صلح نظریہ بنائے کہ ایک بھی مجاہد اول دفتر اول سے تعلق رکھنے والا مجاہد ایسانہ ہو جس کا کھانہ مردہ رہے۔اس سے پہلے میں نے یہ بھی تحریک کی تھی کہ اگر ایسے کھاتے رہ جائیں تو مجھے لکھیں۔جو ہر کوشش کے باوجود پھر بھی کسی طرح زندہ نہ ہو سکے اللہ تعالیٰ نے جتنی مجھے توفیق دی ہے میں اس میں حصہ لوں گا اور جماعت کے دیگر مخلصین جو میری مدد کے لئے تیار ہوں گے وہ حصہ لیں گے تو اسی رنگ میں ہم بالآخر اس مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے کہ سارے کا سارا دفتر اول کا کھانہ زندہ ہو جائے گا۔اس بارے میں بھی تحریک جدید کی طرف سے اس سال جور پورٹ آئی اس میں ہے اس کا ذکر نہیں ملتا۔اس لئے تحریک جدید انجمن کو چاہئے کہ ان امور پر غور کر کے مجھے دو تین مہینے کے اندر اپنی کوششوں سے مطلع کرے۔باقی جہاں تک ترقی کا تعلق ہے اعداد و شمار کی تفصیل بہت لمبی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ اعدادوشمار کی تفصیل یہاں بیان کرنے کا وقت نہیں ہے مگر جو بعض جماعتیں ہیں غیر معمولی طور پر قربانی میں آگے ہیں اور پہلے بھی آگے رہی ہیں ان میں پاکستان میں لا ہور اور کراچی کے علاوہ اور بہت سے ایسے قصبات ہیں جو غیر معمولی طور پر مصائب کا شکار رہے ہیں معاشی طور پر کبھی ان کو شدید صدمے پہنچے ہیں اور دین کے لئے قربانی دینے میں انہوں نے بڑی بڑی اذیتیں اٹھائی ہیں بعض جگہ سینکڑوں نوجوان قیدوں میں رہے ، ان کی تجارتوں پر اثر پڑا، انکے زمیندارے پر اثر پڑا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص احسان ہے اس کے باوجود ان سب کا قدم ترقی کی طرف ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ کے فضلوں اور احسانوں پر انحصار کرتے ہوئے آئندہ بھی انشاء اللہ ترقی کی طرف رہے گا۔ان کے متعلق میں صرف یہ کہوں گا کہ آپ اپنی دعاؤں میں خصوصیت سے یاد رکھیں۔اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور فرمائے اللہ تعالیٰ ان کی نیک تمنائیں جو خدا کی راہ میں قربانی کرنے کی ہیں انہیں بھی پورا فرمائے اور اللہ دین و دنیا کے حسنات ان کو عطا فرماتا چلا جائے۔ان کا سہارا بنے اور یہ ہرلمحہ محسوس کریں کہ خدا کے نازل ہونے والے فضلوں کے مقابل ان کی قربانیاں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔اس کثرت سے اللہ کے فضلوں کی بارشیں ان پر نازل ہوں کہ یہ اپنی قربانیوں کو ان کے مقابل پر حقیر اور بے معنی دیکھیں۔