خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 706
خطبات طاہر جلد ۶ 706 خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۷ء سے زندگی کے کسی لمحہ میں بھی ادا ہو ہی نہیں سکتا۔صرف فرق یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر ایک قسم کی غفلت کی نگاہ سے اپنے گردو پیش کو دیکھتے ہوئے زندگی گزار دیتے ہیں۔اور ہم میں سے اکثر اس بات سے بھی بے خبر رہتے ہیں کہ ان کی زندگی کی تعمیر میں قانون قدرت نے کتنی لمبی اور کتنی وسیع تیاری کی تھی۔اور کتنا عظیم چند سو یا چند ہزار سال کا احسان نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں اربوں سال کا احسان ہے کائنات کے بنانے والے کا جو ہماری زندگی کے بعد لمحوں کی تعمیر کے لئے ایک منصوبے کی صورت میں ہم سے پہلے کھولا گیا تھا۔بہر حال جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہم میں سے اکثر بدقسمتی سے غفلت کی حالت میں رہتے ہیں ، غفلت کی حالت میں زندگی گزار دیتے ہیں۔اس لئے ہم ایک دوسرے سے معاملات میں تو شکریہ کے جذبات نمایاں طور پر پاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے معاملات کے وقت غیر معمولی احسانات کو بھول جاتے ہیں۔چند ایسے بزرگوں کے واقعات ہمیں ملتے ہیں جن کی عادت تھی کہ وہ ہر بات کی تہہ میں ڈوب کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔چند ایسے بزرگوں کے واقعات جب میں کہتا ہوں تو مراد یہ نہیں کہ اسلام میں صرف چند ایسے بزرگ ہی پیدا ہوئے ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ چند ایسے بزرگوں کے واقعات ہم تک پہنچے ہیں۔ورنہ لاکھوں ایسے خدا کے بندے اسلام میں پیدا ہوئے ہوں گے جن کی زندگیاں تشکر کے لئے وقف تھیں لیکن ان کے واقعات تاریخ میں ریکار ڈ نہیں ہو سکے اور جن کی عادت اپنے دلی جذبات کو اس حد تک چھپانے کی تھی کہ وہ واقعات ریکارڈ کرنے کے لئے کوئی تیار بھی ہوتا تو اسے مہیا نہ ہوتے۔ایک واقعہ ان میں سے یہ ہے کہ ایک شخص ایک بزرگ کی خدمت میں مٹھائی کا ٹوکرا لے کر آیا جس میں بہت سے لڈو تھے اور ان کے ساتھ بہت سے شاگر دبھی بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے وہ لڈو اپنے شاگردوں میں تقسیم کر دئیے اور ایک لڈو خود اٹھالیا اور شاگر دتو ایک سے زیادہ لڈو کھا کر بہت دیر پہلے فارغ ہو گئے۔لیکن وہ بزرگ اس میں سے ایک ایک دانہ منہ میں ڈالتے تھے اور کچھ سوچتے رہتے تھے اور اسے چباتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب انتظار میں دیر ہو گئی تو ایک شاگرد نے ادب سے پوچھا کہ آپ نے تو ابھی ایک معمولی حصہ بھی لڈو کا نہیں کھایا جبکہ ہم مدت سے فارغ ہو چکے ہیں ، کیا بات ہے۔کوئی خاص پریشانی کی بات تو نہیں؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب میں