خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 699 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 699

خطبات طاہر جلد ۶ بھی اور آئندہ بھی کارگر رہے گا۔699 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء اس لئے اس پہلو سے اپنا جائزہ لیں اور جب میں کہتا ہوں کہ خدا سے پیار کر لیا کریں اس کا ذہن میں ہر وقت تصور رہے تو بظاہر یہ عام بات ہے معمولی سی بات دکھائی دیتی ہے آپ سب کہتے ہوں گے کہ ٹھیک ہے جی ! بڑا آسان طریقہ مل گیا ہے اللہ تعالیٰ کو یاد کر لیا کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ کو اس تقویٰ کی اس تعریف کے ساتھ یاد کرنا اتنا آسان نہیں جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر یاد کے ساتھ کچھ تقاضے وابستہ ہو جاتے ہیں اور ان تقاضوں کو جب آپ نظر انداز کر دیتے ہیں تو یاد مٹ جاتی ہے وہ کالعدم ہو جاتی ہے۔اگر آپ کو بھوک لگی ہے اور آپ کچھ کھانا کھاتے ہیں لیکن کھانے کے لئے آپ کو پیش کیا جائے اور آپ نہیں کھاتے تو وہ بھوک بے معنی ہو جاتی ہے۔اگر آپ پیاس کا دعوی کرتے ہیں اور پانی آپ کو مہیا کر دیا جاتا ہے یا آپ کی پسند کا شربت پیش کر دیا جاتا ہے اور آپ نہیں پیتے تو آپ اس پیاس کو کالعدم کر دیتے ہیں۔یا وہ پیاس جھوٹی تھی یا پھر آپ عقل نہیں رکھتے کہ وہ پیاس بجھانے کا سامان بھی پیدا ہوا اور آپ نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔تو اس طرح خدا کی یاد کے ہر لمحہ تقاضے ہوں گے، خدا کے پیار کے نتیجے میں ہر لمحہ مطالبے شروع ہو جائیں گے۔اچھا! تم مجھے یاد کرتے ہو تم مجھ سے پیار کرتے ہو تو پھر یہ بھی کرو، پھر وہ بھی کرو اور ہر دفعہ جب یہ بھی کرو اور وہ بھی کرو کی آوازیں اٹھیں گی اس پیار سے تو ہر دفعہ آپ محسوس کریں گے کہ نہ میں یہ کرنے کا اہل ہوں نہ میں وہ کرنے کا اہل۔اس وقت آپ کو پتا چلے گا کہ آپ کی محبت ایک رومانی محبت تھی ایک افسانوی قصہ تھا جس کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے۔پھر ایک اور خوف دامن گیر ہو جائے گا اور وہ خوف یہ ہے کہ میں جو فرضی طور پر خدا سے پیار کے دعوے کرتارہا ہوں یہ تو اور بھی زیادہ گناہ ہے۔میں تو اپنی زندگی سے راضی ہو گیا ہوں میری حالت کیسی ہے؟ میں کیسے اسے تبدیل کروں۔چنانچہ ایک ایسا خوف دل میں پیدا ہوتا ہے اس کے نتیجے میں جب انسان اپنے تصور کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔اس کی زندگی پر ایک لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں بہت سے عشق سوئے ہوئے بیدار ہونے لگتے ہیں۔جس طرح بارش کے ساتھ ، برسات کے ساتھ زندگی کی کئی قسمیں اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور اچانک یوں لگتا ہے کہ ساری دنیا جاگ اٹھی ہے اسی طرح انسان کے اندر بھی بے شمار دنیا ئیں ہیں جو سوئی پڑی ہیں۔ان کو خدا کو خوف بیدار کرتا ہے