خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 692 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 692

خطبات طاہر جلد ۶ 692 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء جو خدا کو بھول چکے ہو اور جو خدا کو بھول جائیں خدا ان کو اپنا آپ بھلا دیا کرتا ہے۔اپنے حال سے بے خبر کر دیتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آئندہ پھر فاسق نسلیں پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔اس لئے سب سے پہلی فکر اپنی کریں، اولاد کی باری تو بعد میں آئے گی۔اگر آپ کے رجحانات درست ہیں، اگر آپ کا اللہ تعالیٰ سے گہرا تعلق ہے، اگر آپ خدا کو نہیں بھولے تو پھر آپ کے دل خدا کے نور سے بھرے رہیں گے اور ان پر بدی غالب نہیں آسکتی۔خدا کا ذکر کرنے والی قوموں پر غیر اللہ کو غلبہ نصیب نہیں ہوسکتا۔اس مضمون کو قرآن کریم کی ایک اور آیت بھی بیان فرما رہی ہے جہاں شیطان نے خدا تعالیٰ سے اجازت مانگی ہے کہ مجھے موقع دے قیامت تک کہ میں تیرے بندوں کو آزماؤں اور انہیں راہ راست سے بھٹکانے کی کوشش کروں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ٹھیک ہے جو تیرا زور ہے لگا اپنے لاؤلشکر لے کر میرے بندوں پر چڑھا دے لیکن میں تجھے یہ بتاتا ہوں کہ جو میرے بندے ہیں ان پر تو غالب نہیں آسکے گا۔جو میرے ہو چکے ہیں ان پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ حقیقی نیکی کے اوپر بدی غالب آہی نہیں سکتی بلکہ حقیقی نیکی ہے جو بدیوں کو ختم کرتی ہے۔اس لئے اگر ہمارے اندر کمزوریاں اور خلا ہیں اور ہماری نیکیوں کے خول ہیں جن کے اندررس کوئی نہیں ، ان کے اندر حقیقت میں کوئی ٹھوس وجود نہیں ہے بلکہ چھلکے ہیں۔تو پھر ایسے چھلکوں کو تو بدیاں ضرور کھا جائیں گی۔سب سے پہلے اپنے نفس کا جائزہ لینا ضروری ہے، اپنے ماحول کا جائزہ لینا ضروری ہے۔میاں بیوی دونوں جن کی اولاد ہے جو فکر کرتے ہیں کہ اولاد کا کیا بنے گا ان کو پہلے اپنی فکر کرنی چاہئے ، اپنے تعلقات پہلے اسلامی رنگ میں درست کرنے چاہئیں۔اپنے ماحول کو درست کرنا چاہئے ، اپنے رجحانات کو درست رکھنا چاہئے۔ہر بات میں دین کو فضیلت دینے کی عادت ڈالنی چاہئے۔اگر سارا دن گھر کے ماحول میں دنیا کی لذتوں کی باتیں ہو رہی ہوں ، یہ ذکر چل رہے ہوں کہ فلاں کے پاس فلاں چیز آگئی ہے اور ہم نے یہ چیز ابھی لینی ہے، اس طرح ہم مکان بنائیں گے، اس طرح ہم یہ کریں گے ، اس طرح وہ کریں گے۔اس طرح اولاد کو اچھی تعلیم دلوائیں گے اور وہ دنیا میں بڑے آدمی بنیں گے۔اگر ذکر ہی یہ چلتے ہوں اور مقابلے ہوں آپس میں مادیت کے حصول کے لئے تو پھر یہ خیال کر لینا کہ ہماری اولا د نیک بھی رہے بہت اچھی ہو، یہ خیال تو اچھا ہے مگر نتیجہ اس کا اچھا نہیں نکلا