خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 688
خطبات طاہر جلد ۶ 688 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء خلا کوضرور کوئی چیز بھرتی ہے۔اگر نیکی نے نہیں بھرا تو بدی اس کو ضرور بھرے گی۔اس لئے قرآن کریم جب یہ فرماتا ہے کہ اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ تو مراد یہ ہے کہ اپنے نفوس کا پہلے جائزہ لو۔اگر برائیاں تم پر غالب آرہی ہیں تو یقین کرو کہ تمہارے اندر حسنات موجود نہیں ، یقین کرو کہ تمہیں وہم ہے کہ تم اچھے ہو اور اپنی خلاؤں کو تلاش کرو اور ان خلاؤں کو نیکیوں سے بھرنے کی کوشش کرو کیونکہ جو وجود نیکیوں سے بھر جاتے ہیں ان پر کبھی بدی غالب نہیں آیا کرتی۔چنانچہ ایک قرآن کریم اس مضمون کو عملاً تاریخ کی روشنی میں بھی پیش فرماتا ہے۔انبیاء کا آغاز ہمیشہ ایسے ماحول میں ہوتا ہے جس پر بدی غالب آچکی ہوتی ہے، ہر طرف بدی ہی بدی کا دور دورہ ہوتا ہے۔قرآن کریم اس نقشے کو آنحضرت ﷺ کی آمد سے پہلے کی حالت کو یوں بیان فرماتا ہے کہ: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :٤٢ ) خشکی اور تری سارے بدیوں سے بھر گئے تھے کوئی جگہ بھی فساد سے خالی نہیں تھی۔ایک محمد مصطفی ﷺ کو فائز کیا گیا اور اس دن سے مسلسل آپ کی زندگی کے آخری سانس تک بدیوں کو بھاگنا پڑا اور آپ کی نیکیوں کو ان پر غالب آنا تھا اور اور وہ غالب آکر رہیں۔ایسے گندے ماحول میں قدم رکھ کر اس کو اپنے گردوپیش نور سے بھر دیا اور ایسی حیرت انگیز حسنات عربوں کو عطا کیں کہ ان کی کیفیت بدل گئی، ان کی کایا پلٹ گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو نثر اور نظم میں بیان فرماتے ہیں اور بڑی گہرائی سے اس پر روشنی ڈالتے ہیں کہ کس طرح حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کی نیکیاں تھیں جو ماحول پر غالب آئیں اور ہر وہ وجود جو نیک وجود پیدا ہوا وہ آپ کی نیکیوں کی برکت سے پیدا ہوا اور یہی مضمون آج بھی جاری ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی جماعت کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حسنات ہی ہیں جو پہلے بھی غالب آئیں تھیں اور آج بھی غالب آئیں گی ان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے دنیا میں۔اس لئے انہیں اپنائے بغیر، ہتھیاروں سے لیس کئے بغیر میدان میں نکلنا اور پھر یہ خیال کر لینا کہ ہم اپنے آپ کو یا اپنی اولاد کو بچا سکیں گے یہ درست خیال نہیں۔یہ تو ویسی بات ہے کہ لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں“۔غالب کہتا ہے: اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا! لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں