خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 681 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 681

خطبات طاہر جلد ۶ 681 خطبہ جمعہ ۱۶ را کتوبر ۱۹۸۷ء سارے سلسلے ہی رضائے الہی کے سلسلے ہیں، رضائے الہی کو کوئی کس طرح زبردستی چھین سکتا ہے۔آپ کا مرتبہ خدا کی نظر میں ضرور بڑھتا ہے اس وقت۔جب آپ جائز حق سے محروم کئے جاتے ہیں اور اس کا مرتبہ جو نا جائز حق لیتا ہے ضرور گرتا ہے خدا کی نظر میں۔اس لئے اسلام ایک محفوظ مقام ہے سچے مسلمان کو کسی طرف سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔اس لئے اپنے اندر وہ احترام پیدا کریں اپنا جو خدا سے تعلق کے نتیجے میں لا زما پیدا ہو جایا کرتا ہے۔جو انکساری کے ساتھ ساتھ رہنا جانتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ جانتے تھے کہ وہ کتنے محترم ہیں اس کے باوجود وہ اس کے باوجود منکسر المزاج تھے۔یہ توازن ہے جو اسلام پیدا کرتا ہے، یہ سین شخصیتیں ہیں جو اسلام کے نتیجہ میں منصہ شہود پر ابھرتی ہیں۔پس خدا کرے کہ یہ جماعت ہوامریکہ میں جو پیدا ہو اور جو کمزوریاں ہیں وہ اللہ اپنے فضل سے دور فرما دے۔کچھ آپ اپنے حالات کا جائزہ اپنے اندر ڈوب کے کرنا شروع کریں۔کچھ اپنے بھائیوں کے جائزہ لے کر ان کو پیار اور محبت سے سمجھانے کی کوشش کریں۔بہت ضرورت ہے کیونکہ اتنا بڑا کام ہمیں کرنا ہے اور ہم اتنا پیچھے رہ گئے ہیں وقت سے کہ بہت تیزی کے ساتھ ہمیں اپنے حالات کو درست کر کے خدا کی فوج میں لازما شریک ہونا ہوگا۔اگر ہم ایسا نہیں کر سکیں گے تو ان کو خدا کی خاطر جیتنے کے بجائے ہم اپنے بچوں کو شیطان کے ہاتھ فروخت کرنے والے ہوں گے۔اگر آپ نے پھیلانہ سیکھا اگر آپ نے اپنے معاشرے کو دوسرے پر غالب کرنا نہ سیکھا تو دوسرا معاشرہ آپ پر غالب آجائے گا۔آپ کمزور ہو جائیں گے، آپ کم ہونا شروع ہو جائیں گے۔ان تاریخی اسباق سے نصیحت حاصل کریں۔یہ غیر مبدل قوانین ہیں جو انسان کی تاریخ ہمیں سکھا رہی ہے۔آپ سے کوئی الگ سلوک نہیں کیا جائے گا۔یہ وہ سلوک ہے جو خدا نے ہمیشہ قوموں سے کیا اور ہمیشہ کرتا چلا جائے گا۔اس لئے استغفار کے ساتھ دعا کرتے ہوئے اپنے حالات کا جائزہ لیں اور انکسار کے ساتھ عظمت کردار پیدا کریں۔ہر وہ شخص جو بظا ہر کسی سوسائٹی کی طرف منسوب ہوتا ہے وہ یہ عزم کرلے کہ میں نے محمد مصطفی میل ہی کی طرف اس طرح منسوب ہو جانا ہے کہ سوسائٹیوں کے فرضی رنگ بالکل غائب ہو جائیں اور اڑ جائیں اور باریک سے باریک فلم ( جھلی ) بھی میرے اور میرے بھائی کے درمیان باقی نہ رہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔صلى الله