خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 680 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 680

خطبات طاہر جلد ۶ 680 خطبہ جمعہ ۱۶ را کتوبر ۱۹۸۷ء کے آپ سمجھیں کہ جماعت کی نمائندہ تنظیم کے نمائندہ جو لوگ ہیں ان کی عزت، عزت، ان کے احترام ، ان - اطاعت کے جذبے میں فرق آ رہا ہے تو جان لیں کہ وہ خدا کی طرف سے بولنے والا نہیں ، وہ شیطان کی طرف سے بولنے والا ہے۔ ایسے انسان کو رد کریں اور اگر آپ میں سے ہر ایک یہ طریق اختیار کر لے تو احمدیت کے اندر کوئی شیطانی جذبہ سرایت نہیں کر سکتا۔ میں تو حیران ہوتا ہوں دیکھ کر کہ بعض لوگ اس اثر کو قبول کر لیتے ہیں اور پھر مجھ سے شکایت کرتے ہیں کہ جی ! فلاں نے ہم سے یہ سلوک کیا فلاں نے بچے کے امتحان میں اس لئے پاکستانی ! بچے کو پاس کر دیا کہ وہ پاکستانی تھا یا اس کا رنگ بہتر تھا یا دولت مند تھا اور ہمارے بچے کو جو زیادہ نمبر لینے کا مستحق تھا اسے قرآن یا نظم میں پیچھے کر دیا۔ میں حیرت سے ان کو دیکھتا ہوں کہ اگر ایسا کیا تو کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ خدا کے ہیں اور خدا خود آپ سے پیار کا سلوک کرے گا۔ خدا کی خاطر جو بھی قوم قربانی کرتی ہے جو شخص قربانی کرتا ہے اس کا مرتبہ خدا کی نظر میں بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے اگر یہ سلوک ہوا تو آپ تب بھی مراد پاگئے ۔ اس بیوقوف پر رحم کریں جس کا حق نہیں تھا اگر واقعی اس کا حق نہیں تھا وہ انعام پا گیا۔ وہ تو جاہل ہے وہ تو جانتا نہیں کہ اس کو کیا دیا جارہا ہے۔ صلى الله علوس حضرت محمد مصطفی ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تم میں سے دو فریق جھگڑا لے کر میرے پاس آئیں اور کوئی اپنی چرب زبانی کی وجہ سے، زیادہ چالا کی کی وجہ سے اس طرح معاملہ پیش کرے کہ میں حقدار کی بجائے کچھ حصہ حق کا ناحق کی طرف منتقل کر دوں تو اس کے نتیجے میں یہ نہ سمجھیں کہ چونکہ میں نے فیصلہ کیا ہے اس لئے وہ اس کا حقدار ہو گیا۔ اس نے صرف جہنم کا ایک ٹکڑا کمایا ہے اس سے زیادہ اس کو کچھ بھی نصیب نہیں ۔ ( ابوداؤد کتاب القضاء ۳۱۱۲۰) پس اگر حضرت اقدس محمد مصطفی الله نعوذ بالله من ذالک حالات سے لاعلمی کے نتیجے غلط فیصلہ کر سکتے ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ نہیں کر سکتے مثال کے طور پر پیش فرمارہے ہیں۔ مگر مثال یہی بتاتی ہے کہ اگر وہ کر سکتے تو ادنی ادنی بندے بعض دفعہ جان کر نہیں لاعلمی کے نتیجے میں فیصلہ غلط کر دیا کرتے ہیں۔ اس لئے جب آپ اس کے مقابل پر یہ ردعمل دکھائیں گے تو دو جرموں کا ارتکاب کریں گے۔ اول یہ کہ اپنے بھائی پر بدظنی کی ۔ آپ نہیں جانتے کہ اس نے کیوں فیصلہ کیا۔ دوسرے یہ کہ واقعہ اپنے آپ کو ذلیل سمجھا کہ گویا ہم سے کچھ چھین لیا گیا ہے۔ آپ سے کوئی کچھ نہیں چھین سکتا یہ تو