خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 676
خطبات طاہر جلد ۶ 676 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۸۷ء کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔آپ ایسا ہی بہنیں ورنہ آپ اپنے عہد بیعت میں سچے نہیں ہوں گے اور جب تک آپ ایسا نہیں بنیں گے آپ امریکہ کی تقدیر کو نہیں تبدیل کر سکیں گے۔لاکھ پاکستانی یا لاکھ عرب یالا کھ انڈونیشین یا ملائشین یا بنگالی یہاں آکر آباد ہو جائے۔جب تک حضور اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور لے کر نہیں نکلتا وہ اس قوم کو فتح نہیں کر سکتا۔جن کو آپ ادنی سمجھتے ہیں نعوذ باللہ من ذالک یا یہ دیکھتے ہیں کہ دنیا ان کو دنی سمجھتی ہے۔ان کے اندر ہیرے جواہر ہیں بڑی عظیم طاقتیں مخفی ہیں اور وہ خدا کے پیار کو قبول کرنے کے لئے ان باقی قوموں سے زیادہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ ان میں محرومی کا احساس ہے۔وہ قومیں جن کو سب کچھ مل چکا ہو وہ متکبر ہو جایا کرتی ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا حضرت نوح نے فرمایا ہے کہ تم تو اندھے ہوئے ہو اپنی دولت میں۔میں تمہیں کیسے دکھادوں کہ نعمتیں وہاں نہیں ہیں یہاں ہیں۔ان کو خدا تعالیٰ نے ان کی غربت کی بنا بصیرت عطا فرما دی ہے۔ان کے احساس محرومی نے ان کو تیار کر دیا ہے کہ وہ نعمت جو ان کی طرف آئے وہ اسے قبول کریں۔پس اس احساس سے ان کو فائدہ اٹھانے دیں، آپ ان کی راہ میں حائل نہ ہوں۔اُن تک محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن وخلق کا پیغام پہنچائیں۔پھر دیکھیں کس طرح اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کی کایا پلٹتا ہے۔یہ وہی قومیں ہیں جو شراب کے نشے میں دھت جو دن رات میوزک اور بعض دفعہ Drugs کے عادی ہوگر اپنی زندگیوں کو گنوار ہے ہیں۔انہی میں سے احمدی نکلیں اور آپ دیکھیں ان میں سے کتنی کا یا پلٹ گئی ہے ان لوگوں کی۔ایک احمدی ایسے میوزیشن ہیں یہاں جو اپنے وقت میں اتنی تیزی کے ساتھ میوزک میں ترقی کر رہے تھے کہ بہت جلد انہوں نے امریکہ کی سطح پر شہرت حاصل کر لی اور ان کے متعلق ماہرین کا خیال تھا کہ یہ All Time Best یعنی ایسے عظیم الشان میوزیشن بن جائیں گے کہ گویا ان کو یاد کیا جائے گا اپنے زمانے کے بہترین تھے احمدی ہوئے نہ میوزک کی پرواہ کی ، نہ میوزک سے آنے والی دولت کی طرف لالچ کی نظر سے دیکھا۔سب کچھ یک دفعه، یک قلم منقطع کر دیا۔وہ درویشانہ اپنی زندگی گزارتے ہیں۔باقاعدگی سے تہجد پڑھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیتے ہیں تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ویسا عشق ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے آقا