خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 671
خطبات طاہر جلد ۶ 671 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۸۷ء جب تک تمہارے پاس دولت نہیں آئی تم کیوں اس میدان میں نہیں نکلے اس لئے تم قوموں کی بھلائی کے جذبے سے نہیں نکل رہے دولت کی خاطر پیسے لے کر اب نکل رہے ہو تبلیغوں کے لئے۔اس کے باوجود چونکہ جماعت احمدیہ نے ایک میدان خالی چھوڑ دیا تھا۔اس لئے جوق در جوق یہ لوگ ان کی طرف جانے شروع ہوئے اور ایک بہت بڑی طاقت بن گئے مگر بدنصیبی سے کیونکہ متقی سیادت ان کو نصیب نہیں ہے، متقی لیڈرشپ نصیب نہیں ہے۔اس لئے وہ لوگ ان کو اسلام میں داخل کر کے انکو غلط کاموں کے لئے استعمال کرنے لگے۔سیاست کے فائدے اٹھانے کے لئے ان کو جرائم پر آمادہ کیا جاتا ہے،ان سے خوفناک کام لئے جاتے ہیں، ان کو غلط تصور دیئے جاتے ہیں نیکی کے اور ہر وہ بات جو اسلام نے غلط قرار دی اس کی طرف با قاعدہ منظم طریق پر ان کو تیار کیا جارہا ہے۔کوئی کسی لیبل کے نیچے مسلمان ہو رہا ہے کوئی کسی لیبل کے نیچے مسلمان ہو رہا ہے اور ہر پیسے دینے والے کا اپنا ایک ذاتی مقصد ہے، ایک سیاسی مقصد ہے کہ ان کو ہم استعمال کریں لیکن یہ وہ جانتے ہیں کہ ہے بہت بڑی طاقت۔یہ طاقت اگر احمدیت میں داخل ہوتی تو اس سے لاکھوں گنا بڑی طاقت بن جاتی کیونکہ یہ طاقت خدا کے ہاتھ میں آجاتی۔بندوں کے ہاتھ میں جب طاقتیں آتی ہیں تو وہ ہمیشہ برائی کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔خدا کے ہاتھ میں جب طاقتیں آتی ہیں تو وہ ہمیشہ بھلائی کے بے شمار سر چشمے ان طاقتوں سے پھوٹتے ہیں اور ساری دنیا کو سیراب کر دیا کرتے ہیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کس کا قصور تھا کہ کس کا نہیں تھا یا کس کا آج قصور ہے یا کس کا نہیں ہے۔مگر میں یہ آپ کو بتا تا ہوں کہ قرآن کریم نے یہ جو واقعہ بیان کیا ہے یہ ایک ہمیشہ کی سچائی ہے۔قرآن کی نظر دلوں پر ہے کیونکہ یہ خدا کا کلام ہے اور جیسا جو کچھ نوخ کے زمانے میں ہوگز را وہ سب کچھ آج بھی یہاں ہوسکتا ہے اور ہوسکتا ہے ہو رہا ہے۔اس لئے ہم نتائج کے لحاظ سے جانچ سکتے ہیں۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ فلاں نے یہ ظلم کیا یا فلاں مبلغ سے یہ غلطی ہوئی یا فلاں آنے والے نے یہ قصور کیا مگر میں یہ جانتا ہوں کہ ہم سب سے کوئی اجتماعی قصور ضرور ہوا ہے ورنہ آج اس حالت میں ہم احمدیت کو یہاں نہ دیکھتے۔اس لئے اس نظریے کو تبدیل کریں۔اس لئے نہیں کہ آپ نے ان کو حاصل کرنا ہے۔اس لئے کہ آپ ہلاک ہو جائیں گے اگر آپ نے یہ نظر یہ تبدیل نہ کیا۔تعداد جیتنے کی خاطر جو بھی آپ فعل کریں گے وہ بے معنی ہے۔آپ نے خدا جیتنے کی خاطر فعل کرنے ہیں۔