خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 670 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 670

خطبات طاہر جلد ۶ 670 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۸۷ء خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ احمدی اسلام میں داخل ہو چکی ہوتی اور بجائے اس کے کہ یہ ملک دنیا میں برائیاں پھیلانے کا اڈا بنا ہوا ہوتا، بجائے اس کے کہ دنیا میں گند پھیلانے کے لئے یہاں سب سے بڑی صنعتیں قائم ہوتیں۔یہاں سے دنیا کے لئے رحمتیں بانٹی جاتیں، دنیا یہاں سے نعمتیں حاصل کرتی، دین کی بھی اور دنیا کی بھی۔اور عظیم الشان محسن کے طور پر یہ ملک دنیا کے سامنے ابھرتا۔جتنی اس قوم کی تعداد ہے، وہ اتنی بڑی طاقت ہے اگر وہ اسلام کے رنگ میں رنگین ہو کر اسلامی تہذیب سے وابستہ ہو جا ئیں اور اس رنگ ڈھنگ کو اپنے لئے اختیار کر لیں اور خلافت کی تنظیم سے وابستہ ہو جائیں تو دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے اور کوئی دنیا کی سازش، کوئی دنیا کی طاقت ان کو دبا نہیں سکتی۔پھر اس طرح ابھریں گے کہ ناممکن ہے کہ ساری دنیا بھی چاہے تو ان کو دبا دے۔اسلام میں اگر چہ بظا ہرا بھرنے کی تعلیم نہیں ہے بظاہر بغاوت سے منع کیا گیا ہے اور انکسار بتایا گیا ہے Humility سکھائی گئی ہے کہ عاجز بندے بنو اور اسلام بتاتا ہے کہ خدا کو بجز کی راہیں پسند ہیں لیکن اس میں ایک بہت بڑا حکمت کا ایک راز ہے کہ وہ قومیں جو خدا سے محبت کے نتیجے میں عاجز بنتی ہیں ان کے اندر خدا کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے، ان کو خدا اپنی عظمتیں عطا کرتا ہے اور کوئی دنیا کی قوم نہیں ہے جوان لوگوں کو دبا سکے جن میں خدا کی طاقت پیدا ہو جائے۔اس لئے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آج دنیا کی تقدیر کا نقشہ بدل چکا ہوتا۔آج اور مسائل دنیا میں ہورہے ہوتے ، آج امریکہ کے میدان سے اسلام کا سورج طلوع ہورہا ہوتا اور وہ جو آپ باتیں سنتے تھے کہ مغرب سے سورج طلوع ہو گا۔آپ اپنی آنکھوں سے اس کو ظہور ہوتے ہوئے دیکھ لیتے۔چھوٹی چھوٹی بدنصیبیاں ہیں۔اپنے ہی مرضوں کا شکار بعض لوگ اپنے آپ کو دنیا کی فضیلت کے نتیجے میں افضل سمجھنے لگ جاتے اور اب خدا کے ان بندوں سے جو دنیا کے لحاظ نسبتا ان کے کم درجے پر ہوں ان سے تکبر کا سلوک کرتے۔اگر آپ ان میں سے نہیں ہیں جنہوں نے تکبر کا سلوک کیا تو پھر بھی جیسی محبت کا سلوک چاہئے تھا، جیسے سینے سے لگانے کی ضرورت تھی ویسا آپ نے نہیں کیا۔چنانچہ بعد میں اسلام کے جھوٹے Version بھی آنے شروع ہوئے یعنی مصنوعی اسلام کے نام پر آنے والی تنظیمیں جو اس وقت یہاں داخل ہوئی ہیں جب ان کو دولت دی گئی ہے کہ جاؤ اس دولت کے ذریعے امریکہ میں جا کر اسلام کا پیغام پہنچاؤ۔حضرت نوح کا یہ بیان اگر چہ ان کو جھوٹا بتا رہا ہے اگر چہ بتا رہا ہے کہ