خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 669
خطبات طاہر جلد 1 669 خطبہ جمعہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۸۷ء رجحان کے نتیجے میں جماعت احمدیہ کو اتنا شدید نقصان پہنچا ہے کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ حضرت نوح کی یہ بات کتنی سچی ہے آپ نے فرمایا و یقوم من ينصرني من الله ان طردتهم - اگر میں نے ان کو دھتکارا تو یہ اتنا بڑا جرم ہے خدا کی نگاہ میں کہ پھر خدا جب اپنی تقدیر جاری کریگا تو تم میں سے کوئی میری مدد نہیں کر سکے گا۔ کتنا خوشخبریوں سے بھرا ہوا عظیم الشان زمانہ تھا جب حضرت مفتی محمد صادق رضی اللہ تعالی عنہ یہاں تشریف لائے اور جوق در جوق اور قوم در قوم ان لوگوں نے جن کو سیاہ فام کہا جاتا ہے احمدیت کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے، اپنے سینے وا کر دیئے۔ اس زمانے میں تار کا خیال بہت شاذ آیا کرتا تھا عموماً خطوں کا زمانہ تھا بلکہ لوگ تار کو اتنا بڑا واقعہ سمجھتے تھے کہ تار دینے کی بجائے خط میں لکھا کرتے تھے کہ آپ اس خط کو تار سمجھیں یعنی ہے تو بہت بڑی Urgency ، بہت ہی شدت کی ضرورت ہے لیکن تار تو بہت بڑی بات ہے اس لئے آپ مہربانی فرما کر میرے خط کو یہ تارسمجھ لیں اور ہمارے دیہات میں خصوصاً پنجاب میں یہ تو عام محاورہ تھا۔ اس زمانے میں اتنا Excite ہو گئے حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تاروں پر تاریں دینے لگے ۔ آج یہاں انقلاب آگیا آج وہاں انقلاب آگیا یہاں اب جوق در جوق لوگ شام ہوئے وہاں قوم در قوم لوگ شامل ہونا شروع ہوئے ۔ اس زمانے میں حضرت مصلح موعودؓ کے خطبے سنیں کس طرح حمد سے بھرے ہوئے ہیں۔ ایک غریب جماعت جس کے کارکنوں کو کھانے کی روٹی بھی میسر نہیں اس کی بھی کوئی ضمانت نہیں ، اس کا ایک غریب نمائندہ ایک امیر ترین ملک میں جاتا ہے اور وہاں سے خوشخبریاں بھیج رہا ہے کہ خدا کے فضل سے ان قوموں کے دل کھل رہے ہیں۔ کسی نے ان سے یہ سوال نہیں کیا کہ کالے آرہے ہیں کہ سفید آ رہے ہیں۔ کسی نے مفتی محمد صادق سے نہیں پوچھا کہ تم نے حکمت عملی کیا اختیار کی کہیں یہ تو نہیں کیا کر رہے کہ کالوں کو قبول کر رہے ہو اور سفید پیچھے رہ جائیں ۔ ہر آنے والا خدا کا بندہ تھا اور خدا کے بندے کے طور پر خدا کے بندے دونوں ہاتھوں سے اسے سینے سے لگا کر قبول کیا کرتے تھے۔ ہر آنے والا تقویٰ کی رونقیں ساتھ لے کر آتا تھا اور ہر تقوے والا مقابلہ اسے تقویٰ کے نور سے اسے اور بھی زیادہ مزین کرتا چلا جاتا تھا۔ یہ وہ دور تھا اگر یہ اسی طرح جاری رہتا تو بعید نہیں تھا کہ آج اس ملک کی ایک بھاری تعداد