خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 663
خطبات طاہر جلد ۶ 663 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۸۷ء میں فضیلت نہیں ہے بلکہ انسان کی شرافت میں فضیلت ہے، خدا سے تعلق میں فضیلت ہے اور اب تم یہ کہتے ہو کہ مال والوں کی عزت کریں اور وہ لوگ جو خدا کی خاطر سب کچھ قربان کر کے میرے سامنے خدا کے دین کی نصرت کے لئے حاضر ہوئے ان کو میں دھتکار دوں اس لئے کہ وہ غریب ہیں، اس لئے کہ وہ بے حیثیت ہیں، اس لئے کہ ان کے رنگ کالے ہیں یا پھر اور حیثیت ایسی ہے کہ چونکہ اس زمانے میں بھی بہت بڑی بڑی قوموں کو جو سیاہ فام بھی تھیں اور دوسرے رنگوں سے بھی تعلق رکھتی تھیں غلام بنا کر امیر قو میں خدمت پر لگایا کرتی تھیں، یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔تو فرمایا جن کو تم ویسے ہی حقارت سے دیکھتے ہو نہ ان کے پاس مال، نہ ان کے پاس عزتیں، نہ ان کے پاس قومی فضیلت ایسی پائی جاتی ہے جس کے نتیجے میں تم ان کی عزت کر سکو اور مجھے کہتے ہو کہ میں بھی ان کو ذلیل دیکھوں تب تم میرے بات سنو گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام معزز قوم کے فرد تھے جو اس زمانے میں حاکم تھی ، جس کی عزت کی جاتی تھی، جس کو ایک قومی نوع کی فضیلت حاصل تھی۔پس ان کی قوم نے ان پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ اگر ہمارے رہتے ، ہم لوگوں میں کام کرتے ، ہم تمہیں مانتے تو یہ بات درست تھی کہ تمہیں ایک درجہ اور ایک عظمت حاصل ہوتی۔مگر تم تو ہر کس و ناکس ، ہر غریب جو تمہاری مدد کے لئے آتا ہے اسے گلے سے لگا لیتے ہو، اس کی عزت شروع کر دیتے ہو گویا تم قوم کی ناک کاٹ رہے ہو۔اس لئے ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں۔اس کے جواب میں حضرت نوح نے فرمایا تم نہیں جانتے کہ ان کو خدا تعالیٰ نے کیسے مراتب عطا فرمائے ہیں۔میرا اجر بھی اللہ پر ہے وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا میں ہر گز کسی قیمت پر خدا پر ایمان لانے والوں کو کبھی دھتکار نہیں سکتا۔إِنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّهِمْ یہ یقینا اپنے خدا کو پالیں گے اور جو اپنے رب کو پالے اس سے بڑا مرتبہ کسی کو اور کیا نصیب ہوسکتا ہے۔ہاں ! بات یہ ہے کہ وَلكِنی اریكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ میں تو تمہیں بہت ہی جاہل اور بیوقوف پاتا ہوں۔تمہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ کتنی نعمتیں تمہیں عطا کی جانے والی تھیں اور ان کو دھتکار کر تم کتنی ذلیل اور کمینی باتوں میں پڑ گئے ہو اور پھر یہ فرمایا وَيُقَوْمِ مَنْ يَنْصُرُنى مِنَ اللهِ اِنْ طَرَدْتُهُمْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ کہ صرف یہ بات نہیں ہے کہ میں طبعاً ان لوگوں سے ، ان غریبوں سے محبت رکھتا ہوں