خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 662
خطبات طاہر جلد ۶ 662 خطبہ جمعہ ۱۶ / اکتوبر ۱۹۸۷ء کو دکھائی دیں گے ان میں دو ہی قسم کے لوگ ہو سکتے ہیں یا وہ جو اپنی طرف سے خرچ کریں، قربانیاں کریں اور پھر نصیحت کریں۔کچھ وہ جن کو بڑی بڑی حکومتیں لاکھوں کروڑوں روپے دے رہی ہوں کہ جاؤ اور بنی نوع انسان کو ہدایت دو۔تو وہ لوگ جن کے پاس پیسہ آئے تو وہ خدمت کریں پیسہ نہ آئے تو ان کی خدمتیں ختم ہو جائیں۔نفسیاتی لحاظ سے یہ قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ ان کی نگاہ میں پیسے کی قیمت ہے، بنی نوع انسان کی بھلائی کی قیمت نہیں۔اس پہلو سے جب آپ جماعت احمدیہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو مغربی قوموں میں بھی اور مشرقی قوموں میں بھی جماعت احمد یہ اس وقت بھلائی کا پیغام لے کر نکلی جب کے انتہائی غریب تھی اور کوئی دنیا میں مالی لحاظ سے اس جماعت کا مددگار نہیں تھا۔جس زمانے میں امریکہ جیسی بڑی اور عظیم مملکت کو ہدایت کا پیغام دینے کے لئے بھجوایا گیا، حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو بھجوایا گیا۔قادیان میں یہ حال تھا کہ بعض دفعہ چھ چھ مہینے کے لئے کارکنوں کو تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں ہوا کرتے تھے۔واقعہ گھروں میں فاقے پڑنے لگ جاتے تھے اور پھر حضرت مصلح موعودؓ تحریک فرماتے تھے جماعت کے امراء سے کہ امانتا کچھ بھجوا دو جب خدا نے توفیق دی ہم تمہیں واپس کر دیں گے لیکن سلسلے کے کارکنوں کی غریبانہ حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔چنانچہ ان در دناک اپیلوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ فضل فرما تا بعض صاحب حیثیت لوگوں کے دل کھلتے ، کچھ ویسے رقمیں ا دیتے کچھ امانت میں رقمیں بھجوادیتے۔چنانچہ تاریخ احمدیت کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ سالہا سال تک ایسی کیفیت گزری کہ قرضوں کے اوپر سلسلے کے خدمت کرنے والوں کے گزارے ادا ہوتے رہے جو کہ بہت ہی معمولی گزارے تھے۔آج جو واقفین کو گزارے ملتے ہیں ان کی ان گزاروں کے ساتھ کوئی مماثلت نہیں۔بمشکل زندہ رہنے کے لئے گزارے تھے اور وہ بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا کئی مہینوں نہیں مل سکتے تھے۔اس وقت احمدیت نے امریکہ جیسی عظیم مملکت کو اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے ایک درویش بھجوایا۔یہ وہ بات ہے جو حضرت نوح ان کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ ہم تو مال کی طرف ادنیٰ سی لالچ کی نگاہ بھی نہیں کرتے۔تمہارے اموال سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ہم تو خود قربانیاں دے رہے ہیں اور پھر تمہیں نصیحت کر رہے ہیں تم کیوں اس بات کو نہیں سمجھتے۔کیوں نہیں سمجھتے کہ مال