خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 661
خطبات طاہر جلد ۶ 661 خطبہ جمعہ ۶ ارا کتوبر ۱۹۸۷ء لوگ اور طاقتور لیڈ ر تمہاری پیروی کرتے۔اس کے جواب میں حضرت نوح نے جو فرمایا قرآن کریم نے من و عن اسے محفوظ فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔قَالَ يُقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّي وَأَثْنِي رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ اَنْزِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَرِهُونَ ) کہ اے میری قوم! کیا تم یہ نہیں دیکھتے یا نہیں دیکھ سکتے یا کیوں اس بات کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ نے اگر مجھے یہ بینہ دے کر بھیجا ہے، روشن دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور مجھے رحمت عطا فرمائی ہے تو اگر یہ رحمت تمہیں دکھائی نہیں دے رہی، یہ فضیلت تمہیں نظر نہیں آرہی کہ قرب الہی ہی ہے جو سب نعمتوں کی جان ہے اور اللہ تعالیٰ کا پیار ہی ہے جو ہر دوسری چیز پر فضیلت رکھتا ہے۔تو میں تمہارے اس اندھے پن کا کیا علاج کروں؟ جو چیزیں تم بڑی دیکھتے ہو وہ مجھے چھوٹی دکھائی دے رہی ہیں۔جو خدا نے مجھے بڑی چیزیں عطا فرمائی ہیں وہ تمہیں دکھائی نہیں دے رہیں۔آنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَرِهُونَ کیسے میں تمہارے اندر زبردستی یہ باتیں داخل کر دوں؟ کیسے یہ نعمتیں میں تمہاری ذات کے ساتھ چمٹا دوں کہ تم ان سے الگ نہ ہو سکو یعنی خدا کی محبت اور اس کا پیار اور اس بات میں عظمت جاننا کہ جو شخص خدا کے قریب ہے وہی عظیم ہے۔وَاَنْتُمْ لَهَا كُرِهُونَ تم تو ان باتوں کو کراہت کی نظر سے دیکھتے ہو۔پس جب تک تم کراہت کی نظر سے دیکھتے رہوگے میں بے اختیار ہوں ، دل تو بہت چاہتا ہے مگر مجبور ہوں میں زبر دستی تمہیں ان نعمتوں میں اپنا شریک نہیں کرسکتا اور پھر یہ فرمایا وَ يُقَوْمِ لَا اَسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا میں تم سے ان خدمات کا جو میں قومی خدمات سر انجام دے رہا ہوں بھلائی کی تعلیم دے رہا ہوں دن رات تمہیں نصیحتیں کرنے میں مصروف ہوں تم سے کوئی مال کے طور پر اجر نہیں مانگ رہا یعنی اگر میری نظر میں تمہارے مالوں کی کوئی وقعت ہوتی تو میں یہ نیکی کے کام تم سے پیسے لے کر کرتا۔ایک بہت ہی گہر ا حکمت کا راز اس میں بیان فرما دیا گیا ہے جو آج بھی بچوں اور جھوٹوں کے درمیان ایک مابہ الامتیاز دکھا رہا ہے۔جتنے دنیا میں نیکی کے نام پر بہت سے کام کرنے والے آپ