خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 660 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 660

خطبات طاہر جلد ۶ 660 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۸۷ء أعْيُنَكُمْ لَنْ يُؤْتِيَهُمُ اللهُ خَيْرًا اَللهُ أَعْلَمُ بِمَا فِى أَنْفُسِهِمْ * إِنِّي إِذَا لَمِنَ الظَّلِمِينَ اور پھر فرمایا: (ہود: ۲۸_۳۲) قرآن کریم کی جو آیات میں نے ابھی آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان میں اگر چہ ایک بہت ہی قدیم زمانے کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے یعنی حضرت اقدس نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کا واقعہ لیکن قرآن کریم کی دوسری آیات سے اور تاریخی مطالعہ اور مشاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم تاریخی واقعہ کے طور پر ان آیات میں یہ ذکر نہیں چھیڑا بلکہ انسانی نفسیات کو ایک مستقل ، دائمی رہنے والی حقیقت کے طور پر پیش کیا ہے کہ وہ حالات جو نوح کے زمانے میں تھے ویسے ہی حالات انسان پر بار بار آتے ہیں اور ہر زمانے میں انسانی نفسیات وہی منظر دکھاتی ہے اور وہی معاملہ کرتی ہے جو اس زمانے میں کیا گیا۔قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں ایک بہت بڑی تہذیب اور بہت بڑے تمدن کا دور دورہ تھا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ معاملہ بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ ایک بہت ہی عظیم الشان تہذیب تھی جس کی مثال کم دکھائی دیتی ہے۔اس زمانے میں حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار کی جو وجوہات پیش کی گئیں ان میں ایک وجہ یہ بیان کی گئی جیسا کہ قرآن کریم کی ان آیات سے پتا چلتا ہے:۔وَمَا نَرْبكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْي کہ ہم تو تجھے ایسادیکھتے ہیں کہ ہماری نظر میں جو لوگ ذلیل ہیں ، بے حیثیت ہیں وہی تیری پیروی کر رہے ہیں اور بڑے بڑے لوگوں میں صاحب علم ، صاحب فضل اور امیر اور قوم میں معزز سمجھے جاتے ہیں وہ تیری اطاعت نہیں کر رہے، وہ تیرے پیچھے نہیں چل رہے۔وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ پس تمہیں ہم پر کیا فضیلت حاصل ہے۔وہ جو کمزوروں اور غریبوں کا لیڈ ر ہے، وہ جس کے پیچھے وہ لوگ چلیں جنہیں دنیا پوچھتی نہیں ، جن کا دنیا میں کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ایسے لیڈر کو اور اس کے ماننے والوں کو انہوں نے کہا کہ ہم پر کیا عظمت حاصل ہوسکتی ہے۔بَلْ نَظُنُّكُمْ كَذِبِينَ ہم تو اس کا نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔اگر بچے ہوتے تو دنیا کی بڑی بڑی قو میں اور عظیم الشان طاقتور