خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 657
خطبات طاہر جلد 1 657 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۸۷ء خدا کرے ان کی بھی سب نیکیاں ان کی اولاد میں آجائیں اور اللہ ان کو زندہ رکھے۔ عبد الرحیم صاحب عارف مربی سلسلہ بڑے مخلص فدائی مربی تھے۔ سارے ہی مربی خدا کے فضل سے واقف زندگی کی حیثیت سے ہمیشہ خاموش قربانی دیتے چلے جاتے ہیں۔ ستر سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ ایک ہمارے امین اللہ خان صاحب سالک کی پھوپھی زہرہ خانم صاحبہ اہلیہ نیاز محمد خان صاحب کی وفات کی بھی اطلاع ملی ہے۔ ان کے خاوند احمدی نہیں تھے مگر مسلسل انہوں نے پوری وفا کا تعلق جماعت احمد یہ سے رکھا اپنی اولاد کے اوپر بہت نیک اثر ڈالا بچھیاں احمدی ہوئیں اور بیٹے احمدی نہیں ہو سکے وہ باپ کے اثر کے نیچے تھے مگر مالی قربانی میں ہر دوسری قربانی میں پیش پیش۔ حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے بہت زیادہ محبت کا تعلق اور وفا کا تعلق پھر خلیفہ الثالث کی طرف وہ منتقل ہو گیا پھر جب میں بنا تو میری طرف منتقل ہو گیا تو بڑی خلافت سے پیار رکھنے والی عورت جس کو کہا جاسکتا ہے۔ ان کی وفات کی بھی اطلاع ملی ہے۔ ایک دوان کی زندگی کے ایسے مسائل تھے جو ابھی حل نہیں ہوئے ان کے لئے پریشان تھیں وہ بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو حل فرما دے اور ان کی روح کی تسکین کا موجب بنیں ۔ ایک سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ میری خالہ کی بیٹی میری خالہ زاد بہن بھی تھیں اور ایک پہلو سے خالہ بھی تھیں کہ میری امی نے اپنی بڑی بہن کا ان کے ساتھ دودھ پیا ہوا ہے۔ یہ تھوڑی سی چھوٹی تھیں مگر ایسا وقفہ تھا کہ دونوں نے یعنی یوں کہنا چاہئے کہ بھانجی نے اور خالہ نے ایک ہی ماں کا دودھ پیا ہوا ہے اکٹھے ۔ ان کی بھی ساری عمر بہت تکلیف میں گزری دائم المریض تھیں مگر بڑی صابرہ بہت دعا گو۔ تو ابھی ان کی ربوہ سے اطلاع ملی ہے کہ یہ بھی وفات پاگئی ہیں۔ چنانچہ انشاء اللہ نماز جمعہ کے اور عصر کے معا بعد ان سب کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔