خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 656 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 656

خطبات طاہر جلد ۶ 656 خطبه جمعه ۹ /اکتوبر ۱۹۸۷ء نہ ممکن ہوسکتا ہے اللہ کرے کہ ہم اس نسخے پر عمل پیرا ہو جائیں اور پھر سارے ترقیات کے مراحل ہم پر خود بخود آسان ہوتے چلے جائیں گے۔اللہ کرے کہ جلد تر ہمیں یہ مقام نصیب ہو۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔آج نماز جمعہ اور نماز عصر کے بعد کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔سب سے پہلے تو ایک بہت ہی تکلیف دہ خبر بنگلہ دیش سے ملی ہے کہ مولوی محمد صاحب سابق امیر بنگلہ دیش 5 اکتوبر کو بعمر 85 86 سال وفات پاگئے ہیں۔بہت ہی مخلص فدائی احمدی تھے اور جب تک صحت نے اجازت دی بڑی عمر کے باوجود گزشتہ چند مہینے پہلے تک یہ امیر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔جب میں نے دیکھا کہ اب ان کے لئے ناممکن ہو گیا ہے بہت ہی زیادہ کمزور اور تکلیف میں تھے تو پھر امارت کو تبدیل کیا گیا اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک مقدر ہی تھا کیونکہ پھر بہت جلد اس کے چند مہینے بعد ہی ان کی وفات مقدر تھی۔جب بنگلہ دیش بن رہا تھا اور بنگلہ دیش کے بعد جبکہ جو قومی جذبات ہیں وہ بے قابو ہو گئے تھے اور بہت سے نوجوان ایسے تھے جنہوں نے احمدیت کے مقابل پر بھی قومیت کو ترجیح دینا شروع کی۔اس وقت مولوی محمد صاحب ایک استقامت کا مینار بن گئے تھے اس کے لئے۔ساری جماعت کے رجحان کو اس ذہنیت کو درست کیا اور خدا کے فضل سے بعض جگہوں کو ایک خطر ناک ابتلا سے بچالیا۔تو اس لئے خاص طور پر یہ ہماری دعاؤں کے محتاج ہیں۔ایک اور اطلاع ملی ہے آپ سب میں سے بہت سے تو واقف ہوں گے ہمارے ملک جمال الدین صاحب ما شاء اللہ سیکر ٹری ضیافت ہیں واشنگٹن جماعت کے اور مخلص سلسلے کے کارکن ہیں ان کی ہمشیرگان بھی مختلف جگہ امریکہ میں رہتی ہیں اور ان کے خاندان کا عموما خدا کے فضل سے خدمت دین کے معاملے میں اچھا مقام ہے۔ان کے والد ملک معراج الدین صاحبد ( کی وفات کی اطلاع ملی ہے )۔بغداد میں رہے ہیں لمبا عرصہ تبلیغ کے بڑے شیدائی تھے۔جہاں جہاں بھی رہے ہیں وہاں ان کی کوششوں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سینئے لوگ احمدی ہوئے۔پاکستان آنے کے بعد بھی بڑھاپے میں بھی خدا کے فضل سے آخر دم تک انہوں نے اس لگن کو قائم زندہ رکھا ہے۔خدا کرے ان کی اولاد میں آگے یہ لگن زندہ رہے اور اصل تو ہم جو اپنے بزرگوں کے لئے کر سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ ان کو مرنے نہ دیں یعنی ان کی نیکیوں کو زندہ رکھیں پھر عارضی موتیں جو ہیں جسم کی وہ کوئی حقیقت نہیں رکھتیں اس کے بعد۔