خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 647
خطبات طاہر جلد ۶ 647 خطبه جمعه ۹ / اکتوبر ۱۹۸۷ء خالص تقویٰ پر ہے، خالص انصاف پر ہے، خالص انسانی ہمدردی پر ہے اور یہ روح اللہ کے تعلق کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔جب تک خدا کا تعلق غالب نہ رہے ہماری زندگی کے ہر فیصلے میں فیصلہ کن نہ بن جائے اس وقت تک یہ مزاج پیدا نہیں ہو سکتا اور اسی وجہ سے جماعت احمدیہ کو یہ استثناء حاصل ہے آج دنیا میں کہ جماعت احمدیہ کے سوا اور کسی کو خدا کا وہ تعلق نصیب نہیں ہے جس کے نتیجے میں ایک ایسی انسانیت وجود میں آتی ہے جو سب انسانوں کے درمیان سانبھی ہو جاتی ہے، جو سب سے پیار کرنے والی ہوتی ہے سب کا بھلا چاہتی ہے اور اس کے نتیجے میں قربانیاں دیتی چلی جاتی ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کا آغاز ہمیشہ نبوت کے ساتھ ہوا ہے ساری تاریخ مذاہب کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے آپ کو اس ضمون کا آغا ز نبوت کے بغیر کہیں دکھائی نہیں دے گا۔چنانچہ عجیب بات ہے کہ وہ لوگ جو دنیا کے سب سے سچے ہمدرد ہوتے ہیں سب سے زیادہ پیار کرنے والے ہوتے ہیں، وہ جن کی ذات کے ساتھ دنیا کی نجات وابستہ ہو جاتی ہے سب سے زیادہ دنیا ان سے دشمنی کرتی ہے۔بظاہر اس بات میں بھی ایک تضاد دکھائی دے رہا ہے وہ وجود جو رحمت اللعالمین بن کے آیا سب سے زیادہ دنیا نے اس سے دشمنی کی ہے۔یہ دعویٰ ایک وسیع آفاقی نظر سے جانچنے کے نتیجے میں کھل کر سامنے آتا ہے عموما مسلمان عرب میں ہونے والی ان دشمنیوں کے ذکر تک اپنے آپ کو محدود کر دیتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی زندگی کے زمانے میں خصوصا مکی دور میں اور بعد میں بار بامدنی دور میں بھی مسلمانوں کے مقابل پر ظہور پذیر ہوئیں۔اس دشمنی کا اثر شدید تھا اور بڑے ہی دردناک مناظر ہمارے سامنے آتے ہیں لیکن دائرہ محدود تھا اور کچھ عرصے کے لئے تھی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اگر آپ آفاقی نظر سے مطالعہ کر کے دیکھیں تو دنیا کے کسی نبی کو دنیا کے باقی مذاہب نے اتنی گالیاں نہیں دیں جتنی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کود ہیں۔ساری عیسائی تاریخ ، ساری یہودی تاریخ ، ساری ہندو تاریخ اور دیگر مذاہب کی تاریخ اس بات سے بھری ہوئی ہے۔آخر ہندوؤں کے یہودیوں سے بھی تو اختلاف ہیں عیسائیوں سے بھی تو اختلاف ہیں دوسرے دیگر مذاہب سے بھی اختلاف ہیں، مگر مجھے کوئی ایک ہندو کتاب اٹھا کر دکھائیے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی گئی ہوں ، حضرت عیسی علیہ السلام کو گالیاں دی گئی ہوں۔جو بد بخت اٹھتا ہے ان میں سے لکھنے والا یعنی مذہب کے معاملے میں لکھنے والا وہ دنیا کی سب سے مقدس