خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 59
خطبات طاہر جلد ۶ 59 خطبہ جمعہ ۲۳ جنوری ۱۹۸۷ء کہتے ہیں جہاد کی روح کے ساتھ ساری دنیا میں عظیم الشان تحریک چلائیں کہ سب احمدی اللہ کے فضل کے ساتھ اس سے دعائیں مانگتے ہوئے اس طرح وعدے پورے کریں کہ خدا کی نصرت کا ہاتھ ان کو دکھائی دے۔خدا کا پیار وہ اپنے دل میں محسوس کریں اور وعدے پوری کرنے کی ایسی شکل ہو کہ وعدے کا جو لطف آئے گا وہ تو آئے گا، وہ خدا کی نصرت کو اس طرح دیکھیں اپنے تائید میں ظاہر ہوتے ہوئے کہ اللہ کی محبت میں بھی وہ پہلے سے بڑھ جائیں۔اور یہ جو صورتیں ہیں یہ بہت ہیں کثرت سے جماعت میں۔تقریباً ہر روز ہی یا کم و بیش ہر روز ایسے خطوط مجھے ملتے ہیں جن میں ایک وعدہ دہندہ جو بڑے اخلاص سے وعدہ کر چکا تھا مجھے مطلع کرتا ہے کہ کس طرح غائبانہ رنگ میں خدا تعالیٰ نے وہ وعدہ پورا کرنے کی توفیق بخشی۔غیبی ہاتھ اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک دو کو نظر نہیں آتا۔لاکھوں ہیں جماعت میں جن کو خدا کا غیبی ہاتھ دکھائی دے چکا ہے اور ان کا غیب پر ایمان لانا بالکل مختلف مضمون بن گیا ہے اس غیب پر ایمان لانے سے جو ایک عام آدمی قرآن کا ترجمہ پڑھتے ہوئے غیب سمجھتا ہے۔وہ اس طرح کا غیب سمجھتا ہے کہ اس کا مضمون ہی اس کے لئے غائب رہتا ہے ہمیشہ۔سب کچھ غائب ہی ہے لیکن اس پر ایمان لانے کا فائدہ کیا ہے جو غائب ہی رہے ہمیشہ۔خدا قرآن کریم میں جس غیب پر ایمان لانے کی تاکید فرماتا ہے، وہ غیب وہ ہے جس کو ہم دیکھ رہے ہیں اللہ کے فضل سے۔ہر غیب کو خدا اپنی تقدیر سے حقیقت میں تبدیل فرماتا رہتا ہے۔اس رنگ میں یہ بھی دعا کریں خدا آپ کو اس رنگ میں وعدہ پورا کرنے کی توفیق بخشے کہ آپ خدا کا غیبی ہاتھ دیکھیں اور اُسے چومیں اس ہاتھ کو ، اس پہ اپنی روح فدا کریں، نچھاور کریں اپنی جان کہ اے خدا! تو ہی ہے جو وعدوں کو پورا فرمانے والا ہے اور پھر اس آیت کا ایک نیا مفہوم آپ پر ظاہر ہوگا إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ (آل عمران: ۱۹۵) کہ ہم کہاں سے وعدہ پورا کرنے والے ہیں تو ہے جو وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا اور تیری اس صفت کی وجہ سے کہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا جو تجھ پر ایمان لانے والے ہیں ان کو بھی عکس کے طور پر تیرے کل کے طور پر ہمیں یہ تو فیق مل گئی ہے کہ ہم بھی اپنے وعدے کو پورا کرنے والے ہیں مگر تیری طاقت سے نہ کہ اپنی طاقت۔اس کا جو دوسرا حصہ ہے وہ میں انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں بیان کروں گا کیونکہ ابھی ایک دو مواز نے اور پیش کرنے والے ہیں۔اس میں صرف وعدے پورے کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔بہت ہی