خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 58

خطبات طاہر جلد ۶ 58 خطبہ جمعہ ۲۳ / جنوری ۱۹۸۷ء ہیں۔لیکن جو فوت ہو چکے ہیں ان سے بھی وصول کرنا چاہئے اس رنگ میں کہ ان کی اولا د کو توجہ دلائی جائے اور بالعموم احمدیوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب اولا د کو بتایا جائے کہ آپ کے والدین ایک نیک ارادہ لے کر اٹھے تھے وہ وفات پاگئے اور توفیق نہیں پاسکے کہ اس وعدے کو پورا کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں جو والدین سے تعلق ہے بچوں کو اور اطاعت اور محبت کا جذبہ پایا جاتا ہے اور ویسے نیکی کی روح پائی جاتی ہے اکثر صورتوں میں آپ دیکھیں گے کہ وہ وعدے پورے ہو جائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے وعدہ پورا کرنے کے سلسلے میں بھی اولا د نے بڑا تعاون کیا یہ تفصیل یہاں بتانے کا موقع نہیں۔لیکن پوری اطاعت کی روح دکھائی ہے اور پورا جذ بہ دکھایا ہے کہ جس طرح بھی ہو یہ وعدہ بہر حال پورا ہو۔اور انہوں نے کہا اگر کوئی ہمارا حق بنتا ہے اس روپے میں ہم چھوڑ دیتے ہیں کلیہ ، ہرگز ہمیں ایک آنہ بھی نہ دیا جائے بلکہ چوہدری صاحب کا وعدہ پورا ہونا چاہئے۔تو یہی روح اللہ کے فضل سے جماعت میں پھیلی ہوئی ہے۔پھر جو جماعت چھوڑ کر کہیں اور جاتے ہیں اس کی بجائے خدا اور باہر سے بھیج دیتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں زیادہ بھیج دیتا ہے۔چنانچہ اب پچھلے دنوں پاکستان میں جو احمدیت پر مظالم توڑے گئے اس کے نتیجے میں بہت سے نوجوان ایسے ہیں، بعض صورتوں میں بڑی عمر کے دوست بھی جن سے زیادہ تکلیفیں برداشت نہیں ہوئیں اور وہ غیر ملکوں میں آگئے ہیں۔انگلستان میں کم لیکن بہت سے دوسر ے ملکوں میں زیادہ تعداد میں پہنچے ہیں۔تو وہ بھی ایک مزید ہے اضافے کا موجب کیونکہ اکثر ان میں وہ ہیں جن کو پاکستان میں اس چندے میں شامل ہونے کی توفیق نہیں ملی تھی اور اگر ملتی بھی تو بہت کم ملتی کیونکہ ان کی مالی حالات ایسے غیر معمولی نہیں تھے کہ کوئی بہت بڑھ چڑھ کر چندہ دے سکیں۔جن ملکوں میں آکر وہ اب خدمت سرانجام دیتے ہیں وہاں کا اقتصادی معیار بلند ہے۔اس لئے ان کا جو چندہ ہے وہ مستزاد ہے پچھلے چندے کا جس کا میں پیچھے ذکر کر چکا ہوں۔اس لئے کسی پہلو سے بھی آپ دیکھیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے چندے میں کمی کی کوئی شکل نہیں آنی چاہئے ، کمی کا کوئی احتمال نہیں نظر آتا۔لازما یہ چندہ وعدے کی نسبت بہت بڑھ کر وصول ہوگا۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور اسکی تو فیق سے۔اس لئے کمر ہمت باندھیں اور پورے زور سے اس کی طرف جس طرح War Footing