خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 620 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 620

خطبات طاہر جلد ۶ 620 خطبه جمعه ۲۵ ؍ستمبر ۱۹۸۷ء آجائیں گے، یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں مسلمان اور زیادہ کمزور ہو جائیں گے اور کلیۂ مغلوب ہو جائیں گے۔کیسی لطافت کے ساتھ ان لوگوں کی ناکامی اور مسلمانوں کے غلبے کی خوشخبری دے دی۔فرمایا جو چاہتے ہو کر لو اس تقدیر کو تم نہیں بدل سکتے کہ بالآخر محمدمصطفی ہے اور اس کے ماننے والے مومنین کو خدا تعالیٰ غلبہ عطا فرمائے گا اور وہ ایسی طاقت پا جائیں گے کہ پھر تمہاری شرارتوں کی تمہیں سزا دے سکیں گے۔آج کمزوری کی حالت میں دیکھ کر تم جو چاہے کرتے پھرتے ہو لیکن بے خوف ہوکر زندگی نہ گزار و یہ وقت بدلنے والے وقت ہیں۔پس جماعت کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر جو منافقین ایسی باتیں پھیلاتے ہیں جس سے جماعت کو کمزور کرنا مقصود ہے ان کو میں قرآن کی زبان میں متنبہ کرتا ہوں کہ تم لا زما نا کام ہو گے یہ ایک زندہ جماعت ہے خدا کے فضل کے ساتھ اس کی نگرانی کرنے والے خدا کے فضل سے زندہ ہیں، ان نگرانی کرنے والوں کا ایک خدا ہے جو ان پر ہمیشہ نگران ہے اور ان کی مدد کو ہمیشہ مستعد رہتا ہے۔اس لئے تم ناکام رہو گے، تمہاری افواہیں ناکام رہیں گی اور وہ وقت آئے گا جبکہ تم ان شرارتوں کی سزا دے جاؤ گے۔اس لئے تم نے تو بہر حال ناکام رہنا ہے میرے اصل مخاطب تو وہ مومن ہیں جو کسی نہ کسی حد تک ان بیماریوں میں ملوث ہو جائیں گے یا ہو جاتے ہیں اور جن کے نتیجے میں جماعت مومنین کو دکھ ضرور پہنچتا ہے۔غلبے کی آخری تقدیر تو نہیں بدل سکتی جیسا کہ بیان فرمایا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ پھر مومنوں کی سوسائٹی ضرور دکھ اٹھاتی ہے۔حضرت عائشہ پر جب الزام لگا اور کچھ بدبختوں نے اس کو پھیلا دیا تو کتنی شدید تکلیف پہنچی ہے مومنوں کی سوسائٹی کو۔وہ نامراداور نا کام ہوئے یہ درست ہے لیکن ایک مہینہ کتنی اذیت اٹھائی حضرت عائشہ صدیقہ نے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ہو نے کتنا دکھ اٹھایا اور سارے صحابہ کی جو کیفیت تھی کرب کی اس کی تفصیل تو بیان نہیں ہوئی لیکن آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔پس یہ خیال کر لینا کہ چونکہ غلبہ آخری ہمارا ہو گا اس لئے فرق نہیں پڑتا، ایک احمقانہ خیال ہے تکلیف ضرور پہنچتی ہے۔کوئی آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ کوڑھ کا علاج نکل آیا ہے اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا مجھے بے شک کوڑھ ہو جائے میں نے آخر ا چھے ہونا ہی ہونا ہے۔کوئی کہے کہ جی ! وہ زمانہ گزر گیا جب رسل کا علاج نہیں ہوا کرتا اب دو سال کی ٹکیاں کھانی ہے اور دوسال کے بعد میں ٹھیک ہو جاؤں گا