خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 621 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 621

خطبات طاہر جلد ۶ 621 خطبه جمعه ۲۵ ؍ستمبر ۱۹۸۷ء اس لئے بے شک ہو سل مجھے۔ایسے آدمی کو پاگل کا بچہ تو کوئی کہ سکتا ہے کوئی اس کو معقول درجہ تو نہیں دے سکتا۔اس لئے غلبے کی پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے کہ یہ بتا دیا جائے کہ دشمن ناکام ہوگا، مومن پر موت نہیں آسکتی لیکن تنبیہ یہ کی گئی ہے کہ تمہارے لئے دور ستے ہیں۔ایک صحت کا رستہ ہے توانائی کے ساتھ ، مضبوطی کے ساتھ ، چھلانگیں لگاتے ہوئے ترقی کی راہوں پر آگے بڑھو اور ایک رستہ ہے گھسٹ گھسٹ کے، گرتے پڑتے ، کراہتے ہوئے مریضوں کی طرح تم اس منزل تک پہنچو جہاں تم نے بہر حال پہنچنا ہی پہنچنا ہے۔تو کون سا رستہ ہے جو تم اختیار کرو گے؟ ذلت کے ساتھ گھٹے ہوئے تکلیفیں اٹھا کر اس منزل تک پہنچنا ہے جس طرح خدا تمہیں چاہتا ہے۔غازیوں کی طرح چھلانگیں لگاتے ہوئے ہمت و حوصلے کے ساتھ ہر قدم پر لطف اٹھاتے ہوئے وہاں پہنچنا ہے۔پس قرآن کی تعلیم کو توجہ سے سنا کریں اور اس پر عمل کیا کریں اور بھولا نہ کریں بات کو۔یہ بات ایک دفعہ ربوہ میں میں نے خطبہ میں کہی تو کچھ عرصے تک یہ رپورٹیں ملیں کہ بڑا فرق پڑ گیا ہے کچھ عورتوں کے خط آنے لگے کہ جی ! اب تو ہم بھی بات کرتی ہیں تو خیال آتا ہے اوہو! یہ تو غیبت ہو رہی ہے پھر رکھتی ہیں اور کچھ عرصے کے بعد پھر بھول گئیں۔فَذَكِرانْ نَفَعَتِ الذِّكْرَى (الاعلیٰ : ۱۰) کا یہی تو مطلب ہے کہ لوگ بھولنے والے ہیں مگر ان کو یاد کروانا ہے اور بہر حال کرواتے چلے جانا ہے لیکن یہ باتیں ایسی نہیں ہیں جن کو آپ جلدی بھول جائیں۔ان کا ہماری قومی زندگی اور قوی موت سے تعلق ہے۔اس لئے یا درکھیں اور ہر سننے والے کو میں سب سے زیادہ پابند کرتا ہوں۔اگر کوئی شخص سنتا ہے اور متعلقہ افسران کو یا مجھے براہ راست مطلع نہیں کرتا کہ آج میں نے ربوہ کی فلاں دکان پر بیٹھ کر یہ بات سنی ہے یا فلاں بازار میں چلتے ہوئے ایک شخص نے مجھے یہ قصہ سنایا یا فلاں دکان پر یہ باتیں ہو رہی تھیں اور فلاں فلاں صاحب موجود تھے، کیا ان کا ردعمل تھا ؟ اگر وہ مجھے نہیں پہنچاتا تو وہ پھر میری بات کا انکار کرنے والا ہے وہ قرآن کریم کی تعلیم کی حکمت کو نہیں سمجھتا۔متعلقہ لوگوں تک اگر یہ سارے لوگ سننے والے باتیں پہنچانی شروع کر دیں تو بیماری کا آنا فانا قلع قمع ہو سکتا ہے۔حو صلے مر جاتے ہیں ان لوگوں کے جو ایسی باتیں پھیلاتے ہیں۔ایک آدمی بھی اگر جرات سے صحیح حالات کی رپورٹ کر دے تو اسی سے ہی ان مریضوں کی حوصلہ شکنی ہو جاتی ہے جو آگے مرض پھیلانے والے مریض ہیں۔