خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 615
خطبات طاہر جلد ۶ 615 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء خلاصہ کلام یہ ہے کہ جن قوموں میں یہ بیماریاں آجائیں وہ ہلاکت کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں اور وہ نہیں جانتیں کے دشمن مخفی طور پر ان پر حملے کر رہا ہے اور ان ہے۔ حملوں کو کامیاب بنانے کے لئے خود ان کو ہی استعمال کر رہا ہے ۔ خصوصاً جب خطرات کے وقت ہوں جب قوموں پر ابتلا آئے ہوں اس وقت دشمن اور زیادہ تیزی اختیار کرتا ہے اور اور زیادہ بیدار مغزی کے ساتھ مومن کو ان بیماریوں کے حملوں کے خلاف مستعد ہونا چاہئے اور ہر دفاعی کوشش کرنی چاہئے ۔ وہ دفاعی کوششیں کیا ہیں؟ بالکل سادہ بظاہر معمولی معمولی نظر آنے والی چند باتیں ہیں جوان سب بیماریوں کے خلاف عظیم الہ کے خلاف عظیم الشان دفاع کی طاقت رکھتی ہیں ۔ سب سے پہلے تو جیسا کہ میں نے بیان کیا قرآن کریم نے واضح طور پر فرمایا کہ کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ ایک آدمی دوسرے کے خلاف بات نہ کرے اور اگر وہ غیبت کرتا ہے تو اس کی مثال ایسی مکروہ دی فرمایا اس کی مثال ایسی ہے جیسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے والا ہو۔ مومنوں کو فرمایا وہ اخوۃ ہیں: ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ مردہ بھائی کے اندر دو باتیں پائی جاتی ہیں ایک تو وہ موجود نہیں ہوتا بیچارہ دوسرا ویسے بھی دفاع کی طاقت نہیں رکھتا ۔ مردے کے اوپر آپ جتنے چاہیں حملے کریں وہ اپنا دفاع کر ہی نہیں سکتا ۔ تو ایسا شخص جو غائب ہے، غائب ہونے کے لحاظ سے اس کی ایک مردے سے مشابہت پائی جاتی ہے اور جس کو پتا ہی نہیں کہ مجھ پر الزام کیا لگائے جارہے ہیں اس بیچارے نے اپنا دفاع کیا کرنا ہے اور جو باتیں کرنے والے ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا وہ چسکا ہوتا ہے ان کو ، ان کے چسکے کے اظہار کے طور پر فرمایا مردہ بھائی کا گوشت کھا رہے ہو، جسکے تو پورے کر رہے ہو لیکن بڑے ہی بد بخت ہو۔ یہ گوشت تو نہیں ہے جسکے پورے کرنے کے لئے یہ تو نہایت ہی ذلیل اور مکر وہ غذا ہے تمہارے لئے ۔ کیسی کامل مثال دی ہے؟ فطرت کے جو پوشیدہ راز ہیں وہ اس میں ظاہر کئے گئے ہیں۔ تو جو شخص ان باتوں کو سنتا ہے اور قبول کر لیتا ہے وہ بھی اس محفل میں شریک ہو جاتا ہے، وہ بھی اس دعوت میں سے حصہ پاتا ہے کیونکہ وہ بھی لذت حاصل کرتا ہے کچھ نہ کچھ اور ایسا ہی ہے جیسے کسی امیر آدمی کی دعوت میں کوئی غریب بھی پہنچ جائے اور کہے کہ آؤ، وہ کہتے ہیں نا! پنجابی میں صلح مارنا کہ آئیے آپ بیٹھیں تشریف لائے وہ بھی ساتھ دو لقمے کھا لیتا ہے۔ تو غیبت کرنے والے کے ساتھ