خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 604 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 604

خطبات طاہر جلد 1 604 خطبه جمعه ۱۸ استمبر ۱۹۸۷ء اثر تو نہیں کہا انہوں نے یعنی بہت معمولی اثر ظاہر ہوا ہے اور بہت سے آتے تھے اور تھک کے چلے جاتے تھے۔ پھر جب آپ نے تحریک کی تو اس وقت قادیان حرکت میں آیا اور ہندوستان کی احمدی جماعتوں نے اپنے نمائندے بھیجنے شروع کئے اور جب وہ آئے تو اس وقت نمایاں طور پر نیک اثر ظاہر ہونے شروع ہوئے اور ایک بڑے علاقے میں جہاں انہوں نے کام شروع کیا ہے وہاں ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے شدھی کی تحریک کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے اور مسلمان میں اب نیا حوصلہ پیدا ہونا شروع ہوا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مجھے یہ دیکھ کر اتنا شوق پیدا ہوا کہ یہ کیسی جماعت ہے میں ذرا دیکھوں تو سہی کہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں قادیان ضرور جاؤں گا۔ چنانچہ میں قادیان گیا اور جو کچھ ان لوگوں کی زبانی میں سنتا تھا جو یہاں کام کرنے آتے تھے اس سے بہت زیادہ بہتر پایا قادیان کو ۔ ایک ایسا ماحول تھا جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا اور میں بہت ہی مطمئن اور خوش ہو کر یہاں آیا ہوں اور میری امید اب اس میدان میں صرف جماعت احمدیہ پر ہے ۔ اس لئے میں آپ کو خط لکھ رہا ہوں کہ آپ جو نیک سکیم بناتے ہیں اس میں میر ہر قسم کا تعاون شامل ہوگا اور یہ یہ میری تجویزیں ہیں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مفید ہیں تو ان پر بھی عمل کریں۔ یہ بااثر تو یہ ایک غیر احمدی ایسے دوست جو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہت با اثر با رسوخ وسیع علاقے پر اثر رکھنے والے دوست ہیں ان کے تاثرات ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کام تو ہو رہا ہے رہا لیکن جو اس کام میں نئے مطالبات سامنے آرہے ہیں، نئے میدان سامنے آرہے ہیں ان کے نتیجے میں میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں بیرونی طور پر اس کام کو آگے بڑھانے کے لئے مالی مدد ضرور دینی پڑے گی کیونکہ موجودہ طور پر ہندستان کی جماعتیں اتنی استطاعت نہیں رکھتیں۔ تو اس ضمن میں بھی میں اپنی طرف سے ایک ہزار پونڈ کا وعدہ کرتا ہوں اور ساری جماعت میں جو صاحب استطاعت ہیں اور جو اپنے پرانے اہم وعدے پورے کر چکے ہیں ان کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ وہ جس حد تک اللہ توفیق دے اس میں حصہ لیں اور جو بقایا دار ہیں یعنی صد سالہ جو بلی کے یا بیوت الحمد کے ان کو چاہئے کہ ثواب کی خاطر یا اپنے اس خیال سے کہ نفس بالکل محروم نہ رہے ٹوکن کے طور پر بے شک کچھ دے دیں۔ اس سے میں نہیں روکتا نہ جماعت کو ان کو روکنا چاہئے ۔ بعض مجبوریوں کے پیش نظر بقایا دار ہو جاتے ہیں وہ آہستہ آہستہ ادا کریں گے۔ اس لئے ان کلیہ نیکی سے