خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 603 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 603

خطبات طاہر جلد ۶ 603 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۷ء جائزہ لیا ہے تو ابھی بھی اور ضرورت ہے اس لئے میں اپنی طرف سے ایک اور مکان کا خرچ پیش کرتا ہوں اور جن دوستوں کو توفیق ہے کہ وہ ایک مکان کا خرچ پیش کر سکیں یا جن جماعتوں کو تو فیق ہے کہ وہ ایک مکان کا خرچ پیش کر سکیں ان کو بھی اجازت ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ صد سالہ جوبلی کے بقایا دا رنہ ہوں اور بیوت الحمد کی تحریک کے بقایا دار نہ ہوں۔پہلے پرانے وعدے پورے کریں پھر خدا توفیق عطا فرمائے تو پھر بے شک آگے بڑھیں۔ایک تیسری تحریک یہ ہے کہ ہندستان میں ہم نے شدھی کی جوابی کاروائی شروع کی تھی اور اس کا بھی موجودہ مخالفانہ کوششوں کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔وہ ہمیں مرتد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس کا طبعی قدرتی جواب یہ کہ جہاں جہاں مسلمان کو مرتد بنانے کی کوشش کی جارہی ہے وہاں اس ارتداد کو روک دیں اور اپنے بھائیوں کو تقویت دیں اور ان کو اپنے ایمان پر مستحکم کریں۔چنانچہ یہ تیسری جوابی عمومی کاروائی ہے جس میں ساری دنیا کی جماعت کو میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔اکثر حصہ تو ہندستان سے تعلق رکھتا ہے واقف زندگیوں کا آگے آنا اور انتظامی کوششیں کرنا۔ان سب کا تعلق صرف ہندوستان سے ہے ان باتوں کا لیکن مالی امداد دینا شدھی کی تحریک کو اس میں تو ساری دنیا کی جماعتیں شامل ہو سکتی ہیں۔اس لئے اس طرف بھی ہمیں توجہ کرنی چاہیئے۔خلاصہ اس وقت تک کے کام کا یہ ہے کہ اس سے پہلے ہندوستان کی بڑی بڑی مذہبی جماعتیں جو شدھی کے میدان میں داخل ہوئی تھیں اور ان کے پیچھے بعض حکومتوں کے روپے بھی تھے، بعض بڑے بڑے تاجروں کے روپے بھی تھے ان کی طرف سے کوئی مؤثر کا روائی نہیں ہو سکی۔لیکن جب سے جماعت احمد یہ اس میدان میں داخل ہوئی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی اثر ظاہر ہوا ہے۔آپ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس علاقے کے ایک بہت ہی بڑے معزز مسلمان جو اپنے رسوخ کے لحاظ سے اس سارے علاقے میں سب سے، اس وقت ، بڑے کہے جاسکتے ہیں ان کا مجھے خط آیا کہ میں فلاں شخص ہوں اور یہ یہ میرے کام ہیں اور اس قسم کا میرا رسوخ ہے میں احمدی نہیں ہوں آپ کو علم ہے لیکن میں شدھی کی تحریک کی جوابی کاروائی کے متعلق آپ کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ چونکہ میرا علاقہ ہے اس سے ذاتی طور پر متعلق ہوں اس لئے میں بڑی فکر سے یہ دیکھتا رہا کہ بعض علماء نے بعض جماعتوں نے جوابی کاروائی کی کوشش کی لیکن کوئی اس کا اثر نہیں تھا، کچھ نہ کچھ کوئی