خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 602 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 602

خطبات طاہر جلد ۶ 602 خطبہ جمعہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۸۷ء دفعہ میرا تجربہ ہے کے جب میں اپنا چندہ بتا دوں تو جماعت بہت تیزی سے آگے بڑھتی ہے جب میں مخفی رکھوں تو اس بارے میں خاموش رہتی ہے شاید ان کو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کے میں جہاں چندہ نہیں لکھوا تا وہاں اہمیت نہیں دیتا اس کو خاص حالانکہ ضروری نہیں ہوتا کہ انسان بتا کے چندہ دے۔تو بعض چندے ایسے ہیں جن میں چونکہ جماعت کو بتایا نہیں گیا، میں نے فہرستوں کا جب جائزہ لیا تو ان میں کوئی توجہ نہیں تھی جماعت کی جہاں بتایا گیا ہے وہاں غیر معمولی طور پر قربانی میں جماعت آگے بڑھی ہے۔تو یہ ممکن ہے ایک طبعی فطری بات ہو۔اس لئے میں آپ کو بتارہا ہوں کہ اسی نسبت سے آپ بھی اپنی توفیق کے مطابق جس حد تک حصہ لے سکتے ہیں لیں لیکن وہی جو پہلے صد سالہ جو بلی کے چندہ ادا کر چکے ہوں۔دوسرا بیوت الحمد کا معاملہ ہے۔بیوت الحمد میں ہماری کوشش ہے کہ ایک سومکان غرباء کو یا ایسے دین کی خدمت کرنے والوں کو جن کو توفیق نہیں ہے اپنے مکان بنانے کی ان کو بنا کر مکمل پیش کریں۔یہ تحریک چار سال پہلے پیش کی گئی تھی اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے بڑا ہی اچھارڈ عمل دکھایا اور کثرت سے اتنے وعدے موصول ہوئے کہ ہمارا خیال تھا کہ اوسطاً اگر سارے اخراجات ملا کر ایک لاکھ میں ایک مکان پڑے تو ایک کروڑ روپیہ چاہئے ہوگا اور وعدے خدا کے فضل سے ایک کروڑ سے زیادہ کے آگئے لیکن ایک بات ہماری نظر سے رہ گئی تھی وہ یہ کہ اس سکیم کا ایک یہ بھی حصہ تھا کہ وہ غرباء جن کو پورے مکان کی ضرورت نہ ہولیکن ان کا مکان نا کافی ہو یا چار دیواری نہ بنا سکے ہوں یا غسل خانہ وغیرہ نہ بنا سکے ہوں یا ایک ہی کمرہ ہے اور خاندان بڑا ہے ان کی جزوی مدد بھی کی جائے گی اور جزوی مدد میں کسی کو کمرہ بنادیا جائے گا کسی کو چار دیواری بنادی جائے گی۔تو یہ مجھے اندازہ نہیں تھا اس حصے پر کتنا زیادہ خرچ ہوگا۔نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر رو پیدا اسی حصے پر خرچ ہو چکا ہے اور سونہیں بلکہ کئی سو مکان ایسے ہیں غرباء کے جن کو کسی کو چار دیواری بنادی گئی، کسی کو باورچی خانہ بنا کر دیا گیا، کسی کو زائد کمرہ بنا کے دیا گیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سکیم کا جو فیض ذہن میں تھا اس سے زیادہ فیض پہنچ چکا ہے۔اس وقت جماعت کو تحریض دلانے کی خاطر دوتین سال کے بعد میں نے اپنا چندہ دگنا کر دیا تھا یعنی ایک لاکھ کی بجائے دولاکھ کر دیا تھا تا کہ دومکان اگر میں بنا کے دیتا ہوں تو جو صاحب توفیق ہیں وہ بھی اس معاملے میں آگے قدم بڑھا ئیں۔اب جب