خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 597 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 597

خطبات طاہر جلد ۶ 597 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۷ء نہیں سکا۔اس کے باوجود دل میں دکھ ہوتا ہے۔ایک احمدی بھی کہیں دنیا میں ضائع ہو چائے ہماری غفلت کی وجہ سے یا اپنی بدنصیبی کی وجہ سے تو اس کا دکھ پہنچتا ہے۔اس لئے جو بھی احمدی جہاں ضائع ہوں ان کو واپس لانے کی پوری کوشش کرنی چاہئے اور یہ کہہ کر معاملے کو ختم نہیں سمجھنا چاہئے کے گندہ تھا نکل گیا۔دوسری بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجھے یقین ہے ان کی اطلاع درست ہوگی اگر چند گندے آدمی جماعت سے الگ ہو جائیں تو اس سے مایوسی بہر حال نہیں ہونی چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہر ارتداد کے بعد اللہ تعالیٰ کثرت سے دوسرے پھل عطا فر مائے گا جو پہلوں سے بہتر ہوں گے۔اس لئے خدا تعالیٰ کا جو وعدہ ہے وہ تو جماعت احمدیہ کے حق میں پہلے بھی پورا ہوتا رہا ہے آئندہ بھی انشاء اللہ ہمیشہ پورا ہوتارہے گا۔اس بارے میں ہمیں کوئی بھی کسی قسم کا شک نہیں ہے بلکہ شک کرنا بھی اپنے نفس کو ہلاک کرنے کے مترادف ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمت کا خدا کی تائید کا ہاتھ جماعت کے ساتھ اتنا واضح ہے، اتنا کھلا ہے اس طرح بار بار ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے بعد بہت ہی کوئی بدنصیب انسان ہوگا جو خدا تعالیٰ کے وعدوں پر شک کرے۔اس لئے ہمیں تو کوئی شک نہیں اس بات میں کہ لازماً پہلے سے بہت بڑھ کر جماعت احمدیہ کو انفرادی قوت بھی نصیب ہوگی اور روحانی قوت بھی نصیب ہوگی اور اخلاقی لحاظ سے بھی جماعت پہلے سے بہت سے بہت زیادہ ترقی کرے گی لیکن صرف یہی کافی نہیں ہے یہ امید بھی صرف کافی نہیں ہے اس امید کے ساتھ ہمیں اپنی کوششوں کو پہلے سے زیادہ تیز کرنا چاہئے ہر ٹھوکر کے بعد اپنی رفتار کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہر تکلیف کے بعد یہ سوچنا چاہئے کہ آئندہ ایسی تکلیف کی راہ کیسے بند کی جائے ، اس کے ازالے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس لئے جہاں جہاں بھی جماعت میں کہیں ارتداد ہو یا کمزوریاں دکھائی گئیں ہیں وہاں کی انتظامیہ کو اور بحیثیت ملک سارے ملک کی انتظامیہ کو آئندہ کے لئے جماعتی حفاظت کے لئے بہتر سامان پیدا کرنے چاہئے اور سب سے بہتر روحانی حفاظت کا سامان نیکیوں کی عادت ڈالنے سے ہوتا ہے۔نصیحت سے نہیں ہوا کرتا اتنا یعنی اگر یہ نصیحت کی جائے تم لوگ مرتد نہ ہو کمزوری نہ دکھاؤ کچھ اثر تو ضرور ہوتا ہوگا لیکن سب سے زیادہ انسان کی ابتلا میں حفاظت کرنے والی چیز اس کی وہ نیکیاں ہیں جو پہلے سے جاری ہوں اور ان نیکیوں کو نئی جلا ملتی ہے ابتلا میں اور اگر اندر سے کوئی کھایا ہوا وجود ہے تو وہ اس کا کھوکھلا پن ظاہر ہو جایا