خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 579
خطبات طاہر جلد ۶ 579 خطبہ جمعہ الارستمبر ۱۹۸۷ء اصول نہیں ہے جسے یادر رکھ کر آپ اپنے عزم کے نتیجے میں اس کے ساتھ چھٹے رہیں۔تقویٰ اللہ ہے یہ ایک لفظ نہیں ہے، اللہ کا تقویٰ جس کا مطلب ہے ایسی دائمی ذات کا خیال جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہنے والی ہے اور یہ تقویٰ پیدا ہو ہی نہیں سکتا جب تک ایک زندہ ہمیشہ ساتھ رہنے والے ساتھی خدا کا تصور قائم نہ ہو۔پس جس حد تک یہ خدا زندہ اور ساتھی ہے اس حد تک تقویٰ کا معیار بلند ہوگا علمی پہلو سے محض تقویٰ کا میعار بلند نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات تقویٰ پر ہیں وہ پڑھیں ان کا ایک اثر تو وہی ہوا کا سا اثر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان میں پڑھتے ہیں تو جب تیز جھونکا آتا ہے جو آپ کو لے کر کئی قدم آگے بڑھ جاتا ہے۔پھر باقی آپ کا تقویٰ ہے۔وہ تقویٰ اس علم کے باوجود جو آپ نے حاصل کیا آپ کو دوام نہیں بخشا۔جب تک وہ تقویٰ اللہ صحیح معنوں میں نہ بن جائے۔جب تک اللہ تعالیٰ کی ذات سے ایسا تعلق پیدا نہ ہو جائے کہ وہ رفیق ہو جائے ، وہ ہمیشہ ایک Reference Point بن جائے۔ہمیشہ اس کے حوالے سے بات ہو اور اس کی طرف مخاطب ہو کر بات ہو اور اس کو دکھا کر بات ہو۔تو انسان کے اندر جو دکھاوے کا جذبہ ہے اس کا رخ موڑنا بھی ایک بنیادی تقویٰ کا اصول ہے اور اس کو نا سمجھنے کے نتیجے میں ہم اپنی بہت سے قوتوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ انسان میں دکھا وہ نہ ہو۔جو یہ کہتا ہے کہ دکھاوے کے بغیر کوئی انسان رہ سکتا ہے بالکل جھوٹ بولتا ہے۔کامل نفس کا مرنا کوئی حقیقت نہیں ہے لیکن دکھاوے کا رخ تبدیل ہونا اصل حقیقت ہے۔انبیاء انسانوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے تھے اور ان کے دکھاوے کا پہلو محض اپنے رب کی طرف مڑ جایا کرتا تھا تبتل الی اللہ اسی کا نام ہے۔یہ مطلب تو نہیں کہ باقی انسانوں سے تعلق توڑ لو ور نہ حضرت اقدس محمد مصطفی امتی رحمت للعالمین کیسے رہتے اگر انسانوں سے اور تمام مخلوقات سے تعلق ہی تو ڑ بیٹھتے۔پس تبتل کا مفہوم بھی تقویٰ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔وہ تبتل پیدا کریں جو حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے پیدا فرمایا یعنی بنی نوع انسان کو جہاں تک آپ کی نیکیاں اور حسن کے دکھانے کا تعلق ہے اس سے کلیہ مستغنی ہو چکے تھے۔ایک ذرہ بھی آپ کے دل میں یہ خیال نہیں تھا کہ کوئی مجھے دیکھ کر کیا سمجھ رہا ہے لیکن ہر لحظہ یہ خیال اپنے خدا کے مقابل پر تھا، اپنے خدا کی نسبت سے تھا۔