خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 580
خطبات طاہر جلد ۶ 580 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۸۷ء چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی آقا کی درس گاہ میں تربیت حاصل فرمائی اور آپ سے بھی جب یہ سوال ہوا تو آپ نے اسی قسم کا جواب دیا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی نے آپ سے عرض کیا کہ آپ کی نمازوں کی بعض دفعہ ایسی حالتیں پیدا ہوتی ہیں کہ اس وقت اور بھی لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں کبھی آپ کو خیال آیا کہ کوئی دیکھ رہا ہو گا اور کیا سمجھ رہا ہو گا ؟ آپ نے فرمایا میں تو اسی طرح کا ایک تعلق رکھتا ہوں اس وقت دوسروں سے جس طرح تم اصطبل میں نماز پڑھ رہے ہو کبھی تمہیں خیال آئے گا کہ گھوڑے دیکھ رہے ہیں؟ ان پر کیا اثر پڑ رہا ہے تمہاری نماز کا ؟ یہ ہے تبتمل کی تعریف جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرما دی۔انسانوں سے تعلق کے لحاظ سے ان کے لئے رحمت بنو اپنے دکھاوے کے لحاظ سے ان کو گھوڑوں سے زیادہ اہمیت نہ دو۔ایسے جانور جن کا دیکھنا نہ دیکھنا تمہارے لئے برابر ہے۔یہ کامل تبتل جب ہو جائے تو دکھاوا سارا خدا کے لئے رہ جاتا ہے کیونکہ انسان دکھاوے کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔فطرت کے خلاف ہے وہ مرجاتا ہے جس کو اپنی نیکی کی وجہ سے تحسین حاصل نہ ہو۔اس لئے ایک ہی رخ ہے وہ تحسین حاصل کرنے کا کہ اپنے رب کو دکھا کر اس سے باتیں کرتے ہوئے انسان جس حد تک بھی اس کو تو فیق ہو اس نیکی کا سفر اختیار کرے۔ہر موڑ پر ہر پہلو پر وہ اپنے رب کو دکھاتا رہے کہ ہاں دیکھ! میں یہ کر رہا ہوں، میں یہ کر رہا ہوں یا یہ میں نہیں کر سکا، یہ نہیں کر سکا، یہ نہیں کر سکا اور اس کے نتیجے میں دل میں درد پیدا ہو پھر اس سے دعائیں نکلیں۔تو تقویٰ کی حقیقت کو اگر آپ سمجھیں تو بہت بڑی زندگی کی عظمتوں کے راز تقویٰ میں شامل ہیں اور ساری نیکی کی تحریکات تمام نیک اثر جو آپ کو ہواؤں کی طرح آگے بڑھاتے ہیں ان کو دوام بخشنے کے لئے ضروری ہے کہ اللہ کے حوالے سے اپنے دل کو طاقت دیں اور ہر اچھے کام کو خود اپنے نفس کے جائزے کے ساتھ اس طرح دیکھا کریں کہ میں خدا کو کتنا خوش کر سکا ہوں یا کتنا بدنصیب ہوں کہ خدا کو خوش نہیں کر سکا۔دوسرا پہلو جو اس سفر کے دوران میرے سامنے آیا میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کو یاد دہانی کرانی ضروری ہے۔وہ یہ کہ ساری باتیں اچھی ہوں لیکن اس کے باوجود انسان کمزور ہے اچھی باتیں سن کر بھی