خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 578 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 578

خطبات طاہر جلد ۶ 578 خطبہ جمعہ الارستمبر ۱۹۸۷ء دوران سال زیر نظر رہے گا اور ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ جو بھی طریق سمجھائے گا ان پر جس طرح بھی عمل کی توفیق بخشے گا وہ ہم کرتے رہیں گے انشاء اللہ لیکن کچھ بنیادی اصولی باتیں ہیں جو میں مختصراً آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔جماعت کے سامنے وقتا فوقتا مختلف تحریکات کی جاتی ہیں۔جب وہ تحریکات آپ سنتے ہیں یا ان پر عمل ہوتا ہوا دیکھتے ہیں تو ایک طبیعت میں جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے اور آپ کچھ دیر اس ہوا کے ساتھ بھاگتے ہیں لیکن بعض ہوائیں ایسی ہیں جو آپ کا عارضی ساتھ دیا کرتی ہیں۔تقریروں کی ہوا ئیں بھی ایسی ہوا کرتی ہیں۔ایک خطیب جب آپ کو ایک جوش دلاتا ہے تو اس کی ہوا اسی قسم کی ہوتی ہے جیسے تیزی سے بس گزر رہی ہو تو ساتھ دونوں طرف سڑک کے آپ دیکھیں تو کھیتیاں بس کی جانے کی سمت میں مڑتی ہیں اور تیز ہوا کا جھونکا ہے جو بھینچ رہا ہے۔اگر بائیسکل چلاتے وقت آپ بس کی ہوا میں آپ تھوڑی دیر کے لئے آجائیں تو آپ کو تھوڑی دیر کے لئے ایک مزید قوت نصیب ہو جاتی ہے لیکن وہ آپ کا ساتھ نہیں دیتی۔وہ ہوا آتی ہے گزر جاتی ہے وہ ایک تیز رفتاری کا اشارہ کر کے اس کا مزہ چکھا کر وہ آگے نکل جاتی ہے۔تو اسی طرح انسانوں کے ساتھ معاملات ہیں جب ایک خطیب آپ کو توجہ دلاتا ہے، ایک نصیحت کرنے والا آپ کو سمجھاتا ہے کہ کیا کیا اچھی باتیں ہیں جو کرنی چاہئیں۔تو اس کے نتیجے میں آپ کے اندر ایک وقتی ولولہ پیدا ہوتا ہے جو ضروری نہیں کہ آپ کی اپنی قوت ہو بلکہ وہ بیرونی ہوا کے اثر سے ایسی چیز پیدا ہوتی ہے۔اسے دائم بنانا ایک اندرونی قوت کو چاہتا ہے اور وہ اللہ کا تقویٰ ہے۔جب تک خدا کا تقویٰ نہ ہو اس وقت تک یہ عارضی تحریکیں مستقل نہیں بنا کرتیں۔اس لئے سب سے اہم اور بنیادی بات تو یہی ہے کہ جتنی بھی تحریکات کی جاتی ہیں ان کو دوام بخشنے کے لئے اور صرف دوام بخشنے کے لئے نہیں بلکہ پہلے سے ہمیشہ آگے بڑھانے کے لئے ہر فرد جماعت کا تقومی بلند ہو، اس کے تقویٰ کا معیار اونچا ہو یعنی جو بات اچھی ایک دفعہ سوچے کہ میں نے کرنی ہے اس کے بعد ہر روز صبح شام اٹھتے بیٹھتے اپنے اللہ کے حوالے سے اپنے دل کا جائزہ لیتا رہے کہ میں نے یہ کام خدا کو خوش کرنے کے لئے کرنا تھاوہ میں نے کیا کہ نہیں کیا؟ کس حد تک میں اس میں پیچھے رہا ہوں؟ اور چونکہ خدا ہمیشہ ساتھ رہنے والا ہے اس لئے تقویٰ Impersonal چیز نہیں رہتا۔تقویٰ محض کوئی ایسا