خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 577 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 577

خطبات طاہر جلد ۶ 577 خطبہ جمعہ ا ار تمبر ۱۹۸۷ء موت کے سوا کوئی اور آخری مقام نہیں ترقی کا ہر مقام ایک منزل ہے اور اگر اس سے آگے کوئی منزل نہیں رہی تو پھر وہ آپ کی موت کا دن ہے۔اس لئے لازم ہے کہ ہم ہمیشہ جہاں ترقی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں وہاں یہ دیکھتے رہیں کہ اگلی منازل کونسی ہیں ، کون سے ایسے پہلو ہیں جن میں نقص رہ گئے ہیں، کونسی کمزوریاں دور ہونے والی باقی ہیں، کونسی نئی نیکیاں رائج ہونی چاہئیں۔جب اس پہلو سے ہم دیکھتے ہیں تو بے حد خلا دکھائی دیتے ہیں۔اتنی کمزوریاں نظر آنے لگتی ہیں کہ خدا کے فضلوں اور اس کے وعدوں کا حوصلہ نہ ہو تو دل ڈوبنے لگتا ہے۔بالعموم ایک جماعت بڑی سہانی اور لہلہاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔انفرادی طور پر جب غور سے دیکھیں تو ہر انسان میں بشری کمزوریاں اس درجے تک پائی جاتی ہیں کہ اگر ان کو دور کیا جائے تو اس کے لئے بھی ایک عمر درکار ہے اور اگر وہ دور ہو جائیں تو اجتماعی قوت میں ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔اس لئے یہ کہنا کہ ہم نے ترقی حاصل کر لی اور آخری مقام تک پہنچ گئے نہایت ہی بڑی بیوقوفی ہوگی بلکہ ایک ایسی پالیسی ہے جو خود کشی کے مترادف ہے۔پس حمد کے نقطہ نگاہ سے خدا کے فضلوں پر نظر رکھنے کے لحاظ سے ترقی کو دیکھنا چاہئے ترقی کی باتیں کرنی چاہئیں اس سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے لیکن ایک صائب النظر جماعت کی حیثیت سے ہمیں لازما اپنی کمزوریوں پر مسلسل نگاہ رکھنی چاہئے اور ان کی تلاش کرنی چاہئے اور جب میں کہتا ہوں کہ کمزوریوں کی تلاش کرنی چاہئے تو انفرادی تجس کے رنگ میں نہیں۔اس لئے نہیں کہ زید اور بکر میں کیا کیا خرابیاں ہیں جن کو میں معلوم کروں اور اچھالوں بلکہ کمزوریوں کی تلاش میں سب سے پہلے نفس کی کمزوریوں کی تلاش ضروری ہے اور جماعتی کمزوریوں میں انفرادیت سامنے نہیں آنی چاہئے بلکہ بالعموم جو خرابیاں پائی جاتی ہیں ان پر نظر ہونی چاہئے اور ان کو دور کرنے کے لئے انسان کو ہمدردی اور دلی جذبے کے ساتھ غور کرتے رہنا چاہئے۔چنانچہ اس سفر کا جو مجھے ایک بڑا فائدہ ہوا اور جو مجھے فائدہ ہے وہ جماعت ہی کو فائدہ ہے کہ مجھے اس پہلو سے بھی جماعت کے مختلف حالات پر غور کرنے کا موقع ملا۔ہر جماعت کے اپنے اپنے حالات جو ہر دوسری جماعت سے کسی رنگ میں مختلف ہیں، ان پر غور کرنے کا موقع ملا۔تفصیلاً جو میرے جائزے کا ماحصل ہے وہ تو میں آج آپ کے سامنے پیش نہیں کر سکتا۔بہت سا ایسا حصہ ہے: