خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 54

خطبات طاہر جلد ۶ 54 خطبہ جمعہ ۲۳ جنوری ۱۹۸۷ء دی ہے انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچ جائیں گے۔چنانچہ بچ گئے اور یہاں آ کر خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق بخشی کہ اس معاملے کی پیروی کروں اور جسے تمام واقف کار لوگ کلیۂ کھوئی ہوئی رقم قرار دے چکے تھے کہ واپس آ ہی نہیں سکتی۔وکلاء بھی اور مالی امور کے واقف لوگ کے کوئی دباؤ نہیں ہے اس شخص پر ہمارا سب کچھ اپنے ہاتھ سے چوہدری صاحب لکھ کر اس کے سپر د اس طرح کر بیٹھے ہیں کہ کوئی دنیا کی قانونی طاقت اس سے اب نکلو انہیں سکتی مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے چونکہ یہ خوشخبری تھی میں نے کہا نہیں کوشش کرتے رہو۔گزشتہ ایک موقع پر میں نے بتایا کہ مجھے یاد یہ تھا کہ چوہدری صاحب کا وعدہ جو باقی ہے دولاکھ اسی ہزار ہے اور یہی میرے ذہن میں تھا اور میں نے جماعت کو خوشخبری دی کہ الحمد للہ کہ اس فرم نے جو مکان ہمیں دیا اس کے بدلے میں وہ دولاکھ کا تھا اس وقت تک وہ مکان نہیں بکا جب تک دو لا کھ اسی ہزار کا نہ ہو گیا۔بعد میں مجھے پتہ چلا دو لاکھ اسی کا وعدہ نہیں تھا ، دولاکھ ساٹھ ہزار کا تھا میں تو جماعت کو بتا چکا تھا کہ اس میں اعجازی نشان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعینہ اتنی رقم مہیا فرمائی جتنی ضرورت تھی۔اس وقت مجھے تعجب ہوا کہ یہ پھر میں کا فرق کیوں پڑا۔چند دن کے بعد اللہ تعالیٰ نے سمجھا دیا کہ یہ فرق کیوں پڑا کیونکہ اس کے بعد چند دن کے بعد وکلاء کی طرف سے چٹھی ملی کہ ہماری میں ہزار فیس دینی نہ بھولیں۔پانچ ہزار پہلے ادا ہوئی تھی، پندرہ ہزار بعد میں، اس کے لگ بھگ رقم جو فیس اور واجب الادا چندہ ملا کر بعینہ وہی رقم بنتی تھی جو ادا کرنی تھی۔بڑے نشان ہیں ان باتوں میں خدا کی طرف سے۔جماعت کے لئے حوصلہ افزائی ہے کہ دیکھو خدا کس طرح اپنی جماعت کے ایک ایک بندے کے دل پر نظر رکھتا ہے۔اجتماعی طور پر اس جماعت کی کیا قیمت ہوگی خدا کے نزدیک اندازہ تو کریں بلکہ اندازہ نہیں کر سکتے۔آپ کے لئے خوشخبری یہ بھی ہے کہ آپ اگر اپنے خلوص کے معیار کو بڑھا ئیں تو ان فکروں سے خدا آپ کو نجات بخشے گا کہ کس طرح ادا ئیگی ہوئی ہے۔اس لئے اگر پہلے وہ معیار نہیں بھی تھا تو اب یہ معیار لے کر دوبارہ نئے ارادے سے خدا کے حضور اپنے وعدوں کی تجدید کریں کہ اے خدا! ہم سے جو غفلت ہوئی سابقہ اب تک ہم نے ان وعدوں کی ادائیگی سے کوتاہی کی ہے یا غفلت کی ہے، پوری اہمیت نہیں دی تو ہمیں اس کی معافی عطا فرما اور آئندہ ہمیں توفیق بخش کہ ہم تیری رضا کے مطابق اس وعدے کو اس سال کے اندر اندر ادا کر دیں۔غیب سے خدا سامان پیدا فرماتا ہے اور غیب پر ایمان لانے کی تعلیم سورۃ بقرہ کی